BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 March, 2008, 09:04 GMT 14:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات بم دھماکوں میں چار ہلاک

گزشتہ چار دنوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کی گولہ بای میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ پولیٹکل حکام نے پانچ عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار چار باغ کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب کیئے گئے ایک ریموٹ کنٹرول بم کو ناکارہ بنارہے تھے کہ اس دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

دھماکے میں سب انسپکٹر مصطفی اور کانسٹیبل سلیمان شاہ ہلاک جبکہ دو دیگر اہلکار زخمی ہوگئے۔

سوات کے علاقے کبل میں بھی گھر کے اندر بم پھٹنے سے مدرسے کے ایک طالب علم سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی رات شاہ ڈھیرئی کے علاقے میں پیش آیا۔ ایک پولیس اہلکار فرمان علی نے بی بی سی کو بتایا کہ مدرسے کا ایک طالب علم رات کے وقت گھر کے اندر مبینہ طورپر بم بنارہا تھا اور اس کے ساتھ ایک نامعلوم مہمان بھی تھا کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں دونوں ہلاک ہوگئے۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

سوات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے جس میں حکام کے مطابق اب تک سینکڑوں مشتبہ طالبان جنگجوؤں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر قبائلی علاقے باجوڑ ایجسنی میں مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے عام گھروں پر گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ پولیٹکل حکام نے پانچ شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی تحصیل نواگئی میں منگل کو سکواٹس اہلکاروں پر نامعلوم ریموٹ کنٹرول بم حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے چاروں اطراف سے نواگئی بازار پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے شدید حملے کئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے داغے گئے کئی مارٹر اور راکٹ گولے عام گھروں پر گرے تھے جس میں اب تک آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔ ہلاک و زخمیوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بعض ذرائع نے ہلاک شدگان کی تعداد دس تک بتائی ہے تاہم حکام سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گولہ باری کے بعد علاقے میں سخت خوف وہراس اور کرفیو کا سماں ہے جبکہ تمام بازار اور دکانیں بھی غیر اعلانیہ طورپر بند ہیں۔ علاقے کے عمائدین کے مطابق عام شہری کی ہلاکت سے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ نواگئی تحصیل باجوڑ اور مہمند ایجنسی کی سرحد پر واقع ہے۔ ایک ہفتہ قبل مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک گاڑی پر راکٹ حملہ کرکے اس میں سوار پانچ مسلح افراد کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار افراد نواگئی تحصیل کے رہائشی تھے اور جن کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق مقامی طالبان تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔

گزشتہ چار دنوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مہمند ایجنسی میں بھی سکیورٹی فورسز کی طرف سے مقامی طالبان کے خلاف ایک کارروائی میں راکٹ گولے گھروں پر گرنے سے ایک عام شہری ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے تھے۔

باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
اسلحہ،نقاب پر پابندی
باجوڑ میں امن و امان کے لیے نئے اقدامات
باجوڑ ہئر ڈریسرزباجوڑ کے ہئرڈریسر
ہمیں داڑھی بنانے پر مجبور نہ کیا جائے
باجوڑ ایجنسیپمفلٹ سے دھمکی
باجوڑ میں داڑھی اور شیو پر دھمکیاں
ابو بکرباجوڑ حملہ ایک سال
حملے میں زخمی ہونے والا ابوبکر ابھی تک لاچار
اسی بارے میں
باجوڑ ایجنسی: چوکی پر حملہ
08 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد