BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: طالبان نے اہلکار اغوا کر لیے

مقامی طالبان (فائل فوٹو)
باجوڑ میں کافی عرصے کے بعد اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ درجنوں مشتبہ طالبان نے پیر کی دوپہر کو نائب تحصیلدار سمیت آٹھ سرکاری اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے جبکہ دوسرے ایک واقعہ میں سرکاری ٹیلی ویژن کے مقامی بوسٹر کو بم سے اڑاکر تباہ کردیا گیا ہے۔

پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی دوپہر بارہ بجے 80 کے قریب مبینہ مسلح طالبان نے صدر مقام خار سے تقریباً چوبیس کلومیٹر دور تحصیل ناؤگئی میں واقع سرکاری کالونی پر بھاری ہھتیاروں سے شدید فائرنگ کی جس کے بعد انہوں نے نائب تحصیلدار شہریار، نائب صوبیدار اسماعیل، حوالدار بہادر اور سپاہی سید چارلی کو مبینہ طور پراغواء کر لیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ واردات کے دوران وہاں پر موجود اہلکاروں کو جوابی فائرنگ کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مقامی طالبان نے نقاب پہن رکھے تھے اور وہ راکٹ لانچروں سے مسلح تھے ۔ان کے مطابق سرکاری اہلکاروں کے اغواء کے بعد وہ ایک فلائنگ کوچ اور تین پک اپ گاڑیوں میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔

 باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن پر ردعمل کے طور پر تین ہفتے قبل حکومت کے ساتھ قبائلی عمائدین کے توسط سے جاری مذاکرات کو معطل کردیا تھا

حکام کے مطابق اس واقعہ کے بعد طالبان نے دربن چیک پوسٹ سے بھی تین اہلکاروں، افضل، تاج محمد اور بہادر کو اغواء کرلیا۔ حکومتی اہلکار کے مطابق مقامی طالبان نے سوات میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے چار ساتھیوں کی گرفتاری کے بدلے ان سرکاری اہلکاروں کو اغواء کیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں سرگرم طالبان نے ان اہلکاروں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مہمند ایجنسی میں طالبان کے سربراہ عمر خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ انکے دس مسلح ساتھیوں نے پیر کی دوپہر کو باجوڑ میں دو مختلف مقامات سے آٹھ حکومتی اہلکاروں کو اغوا کرلیا اور انکے بقول اسکے علاوہ انہوں نے صوبہ سرحد کے علاقے شب قدر سے بھی دو پولیس اہلکاروں کو گزشتہ روز اغوا کیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان اہلکاروں کو اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ چند روز قبل انکے چار طالبان ساتھیوں کو پولیس نے چکدرہ کے مقام پر گرفتار کر لیا تھا۔

عمر خالد کا مزید کہنا تھا کہ جب تک انکے چار ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک دس حکومتی اہلکار انکے تحویل میں ہونگے۔

دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو بعض نامعلوم مسلح افراد نے صدر مقام خار سے تقریباً چودہ کلومیٹر دور برنگ کے پہاڑ کی چوٹی پر واقع سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے مقامی بوسٹر کو بم سے اڑا کر تباہ کردیا۔انکے مطابق بوسٹر کو اڑانے سے قبل مسلح افراد نے وہاں پر موجود عملے کو کمرے سے نکال کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ باجوڑ میں کافی عرصے کے بعد کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن پر ردعمل کے طور پر تین ہفتے قبل حکومت کے ساتھ قبائلی عمائدین کے توسط سے جاری مذاکرات کو معطل کردیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سوات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار طالبان کی مدد کے لیے باجوڑ، مہمنداور ضلع دیر کے دس ہزار طالبان پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
باجوڑ میں دو قبائلی ملک قتل
20 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد