باجوڑ حملہ: ایک سال بعد بھی لاچار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں پچھلے سال ایک دینی مدرسے پر بمباری کے دوران شدید زخمی ہونے والا بائیس سالہ طالبعلم ابوبکر ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اس واقعے کی پہلی برسی کے موقع پر خار کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ گزشتہ سال تیس اکتوبر کی علی الصبح پانچ بجے باجوڑ کے صدرمقام خار سے تقریباً دس کلومیٹر دور ڈمہ ڈولہ سے متصل انعام خور چینگئی میں ایک دینی مدرسے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں تراسی کے قریب کم عمر طالبعلم ہلاک جبکہ تین شدید زخمی ہوگئے تھے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا تھا کہ مدرسے میں عسکریت پسندی کی تربیت دی جا رہی تھی جبکہ مقامی لوگوں نے اس حکومتی دعوے کی تردید کی تھی ۔ ابوبکر سے جب خار کے سرکاری ہسپتال کے ایک پرائیویٹ روم میں ملاقات ہوئی تو وہ بہت ہی کمزور نظر آئے ۔ ان کی ٹانگیں تقریباً ناکارہ ہوگئی ہیں جن پر ایک سال بعد بھی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ ابوبکر نے ابتداء میں یہ کہہ بات کرنے سے انکار کردیا کہ’ بمباری کے بعد پورے پاکستان میں احتجاج کے طور پر جلسے جلوس ہوئے مگر اس کے باوجود حکومت پر انکا رتی بھر بھی اثر نہیں ہوا لہذا میں انصاف کے حصول کے لیے قیامت کے دن کا منتظر ہوں‘۔ تیس اکتوبر کو ہونے والی بمباری کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات اب بھی ابوبکر کو حرف بہ حرف یاد ہیں’میں وضو کرنے کے بعد نماز پڑھنے کے لیے ہال میں جا رہا تھا جہاں پر ہمارے باقی تمام ساتھی موجود تھے کہ میں نے دو شعاعیں دیکھیں اور پل بھر میں میں نے خود کو زمین پر گرتے ہوئے پایا‘۔
ان کے مطابق’میں نے اپنے ارد گرد دیگر طالبعلم ساتھیوں کی لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں اور وہ حالت نزع میں کلمہ طیبہ اور اللہ اکبر کا ورد کرتے رہے‘۔ ابوبکر اب بھی اس بات پر مصر ہیں کہ مدرسے میں کسی قسم کی کوئی عسکری تربیت نہیں دی جارہی تھی اور نہ ہی وہاں پر مبینہ شدت پسند موجود تھے۔وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ مبینہ مقامی طالبان جنگجوؤں کا مدرسے میں آنا جانا لگا رہتا تھا تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مدرسے کے طالبعلم اپنے بحث مباحثوں میں افغانستان اور قبائلی علاقوں میں سرگرم مبینہ طالبان جنگجؤوں کی حمایت کرتے رہتے تھے۔ تیس اکتوبر ابوبکر کی خوشیوں کی آخری رات تھی اور اس کے بعد بقول ان کے انہوں نے پھر دلی خوشی محسوس ہی نہیں کی ہے۔ ’ اس عید پر کئی لوگوں نے مجھے نئے کپڑے تحفے میں لا کر دیے مگر میں نے پہننے سے انکار کر دیا کیونکہ مجھے اپنے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی بہت یاد آرہی تھی‘۔ ابوبکر نے مزید کہا کہ’ تیس اکتوبر کا دن میرے لیے دکھوں سے بھرپور ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ دن پھر کبھی لوٹ کے نہ آئے‘۔ پچھلے سال مدرسے پر ہونے والی بمباری کے بعد باجوڑ کے مقامی لوگوں، سیاسی جماعتوں اور مقامی طالبان نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ یہ امریکہ کی جانب سے ہونے والا ایک فضائی حملہ تھا تاہم ایک سال بعد علاقے کے سفر کے دوران پہلی مرتبہ کچھ ایسے مقامی لوگوں سے بھی بات ہوئی جنہوں نے پہلی مرتبہ اس بات کا اظہار کیا کہ حملے کی رات مدرسے میں ان مبینہ جنگجؤوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جن کو مقامی سطح پر مختلف علاقوں سے بھرتی کیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد مقامی طالبان کے لیے لوگوں کی ہمدردیاں بڑھ گئیں جبکہ ہلاک شدگان کے بعض رشتہ دار حکومت سے انتقام لینے کی غرض سے مبینہ طالبان جنگجوؤں کی صف میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ڈمہ ڈولہ کے ایک رہائشی اخوندزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے بعد حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد نہیں کی گئی۔ ان کے بقول’لوگ حکومت سے خفا ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مقامی طالبان نے لوگوں کو دلاسہ دیا اور ان کے لیے آواز اٹھائی جسکے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد طالبان کے حمایتی بن گئے ہیں‘۔
بمباری میں تباہ ہونے والا مدرسہ اب اسی مقام پر دوبار تعمیر ہوچکا ہے جس میں پہلے کے مقابلے میں طالبعلموں کی درس وتدریس کی گنجائش زیادہ ہے۔ مدرسے کے مہتم اور کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی کے مقامی رہنماء مولوی لیاقت کی ہلاکت کے بعد مولوی عبدالحمید کو مدرسے کے انتظام چلانے کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ مولوی عبدالحمید نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کی نئی عمارت پر اب تک انیس لاکھ روپے خرچہ آیا ہے جس میں دس لاکھ جماعت اسلامی، دو لاکھ روپے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی اور ڈیڑھ لاکھ روپے کالعدم تحریکِ نفاذ شریعت محمدی نے بطور عطیہ دیے ہیں۔ ان کے بقول’مدرسے پر بمباری کے بعد علاقے کے لوگوں میں بچوں کو دینی تعلیم دینے کے رجحان میں اضافہ ہوگیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ والدین اپنےبچوں کو داخلہ دلوانے کے لیے سفارشیں کر رہے ہیں‘۔، مدرسے میں زیر تعلیم ایک آٹھ سالہ بچے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پڑھنے کے دوران جب بھی فضاء میں ہیلی کاپٹر کی آواز یں سنتا ہوں تو دل میں خوف کی ایک لہر اٹھتی ہے۔ میرے والدین نے مجھے یہ نصیحت کی ہے کہ ہیلی کاپٹر کی آواز سنتے ہی مدرسے کے احاطے سے بھاگ نکلنے کی کوشش کروں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||