BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 March, 2008, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کی حکمتِ عملی میں ایک اور تبدیلی

طالبان جنگجو فائل
طالبان ترجمان کے بیان کا لہجہ اور اس میں استعمال ہونے والے لفظوں سے ماضی کی طرح کی غیر ذمہ داری نہیں جھلکتی
صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں تیسرے روز ہونے والے متواتر مبینہ خودکش حملوں سے یہ اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ خود کش حملہ آوروں کی نہ صرف کمی نہیں ہے بلکہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے جگہ جگہ ناکے لگانے اور تلاشی کے باوجود وہ اپنے ہدف تک پہنچنے اور اسے نشانہ بنانے میں بھی مہارت حاصل کرچکے ہیں۔

درہ آدم خیل میں ہونے والا حملہ تحریک طالبان کی جانب سے حکومت کے ساتھ معاہدہ کی خلاف ورزی کے الزام کے اعلان کے تقریباً چودہ گھنٹے بعد ہوا ہے۔طالبان ترجمان نے لکی مروت میں ڈی ایس پی جاوید اقبال کو دو اہلکاروں کے ہمراہ مارنے، اس کے بعد ان کے جنازے اور اگلے ہی روز باجوڑ میں لیویز گاڑی پر حملوں کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر قبول کرلی تھی۔

پاکستان میں مسلح طالبان کا ظہور سنہ دوہزار تین کے دوران جنوبی وزیرستان میں ہوا تھا جس کے بعد ان کی قوت آہستہ شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، اورکزئی ایجنسیوں اور صوبہ سرحد کے ضلع سوات، درہ آدم خیل، ٹانک، لکی مروت، بنوں اورمردان تک پھیل گئی مگر اس دوران ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا تھا۔

طالبان ایک پلیٹ فارم تلے
طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے باجوڑ کے طالبان رہنماء مولوی فقیر محمد کے ساتھ ملکر دو ماہ کی مسلسل کاوشوں کے بعد طالبان گروپوں کے نمائندوں کو تحریک طالبان نامی تنظیم کے پلیٹ فارم تلے متحد کرلیا۔

طالبان گروپ اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار رہتے تھے مگر چند ماہ قبل جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے باجوڑ کے طالبان رہنماء مولوی فقیر محمد کے ساتھ مل کر دو ماہ کی مسلسل کاوشوں کے بعد طالبان گروپوں کے نمائندوں کو تحریک طالبان نامی تنظیم کے پلیٹ فارم پر متحد کرلیا۔

تنظیم کے قیام کے بعد اس کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا مقصد حکومت کے خلاف ایک ہی حکمت عملی اور پالیسی کے تحت کارروائی کرنا ہے کیونکہ بقول ان کے حکومت ایک جگہ مذاکرات جبکہ دوسری جگہ طاقت کا استعمال کرتی ہے۔

تحریک طالبان کے قیام کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ طالبان کی کاروائیوں میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ ان میں اتنی ہم آہنگی نظر آتی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں ان کی کارروائی کا جو دعویٰ باجوڑ میں بیٹھے ترجمان مولوی عمر کرتے ہیں وہ کافی حد تک درست ثابت ہوتا ہے۔ان کی دھمکیوں پر ماضی میں حاجی عمر اور مولوی فقیر کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کے برعکس عملدرآمد ہوتا ہے۔

تحریک طالبان کے ترجمان کے بیان کا لہجہ اور اس میں استعمال ہونے والے لفظوں سے ماضی کی طرح غیر ذمہ داری نہیں جھلکتی بلکہ لگتا ہے کہ میڈیا کو بیان جاری کرنے سے قبل اس سے سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا ہے۔

اس کا اندازہ گزشتہ روز طالبان ترجمان کے اس نپے تلے بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ طالبان’عمومی طور پر معاہدہ کے پابند تو ہیں لیکن جزوی طور پر سکیورٹی فورسز کے خلاف ان علاقوں میں کارروائیاں کی جائیں گی جہاں پر طالبان کے خلاف سرچ آپریش کیا جاتا ہے‘۔

طالبان کی حکمتِ عملی میں تبدیلی؟
طالبان کی کارروائیوں میں نہ صرف تیزی آئی ہے بلکہ ان میں اتنی ہم آہنگی نظر آتی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں ان کی کاروائی کا جو دعویٰ باجوڑ میں بیٹھے ترجمان مولوی عمر کرتے ہیں وہ کافی حد تک درست ثابت ہوتا ہے۔ان کی دھمکیوں پر ماضی میں حاجی عمر اور مولوی فقیر کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کے برعکس عمدرآمد ہوتا ہے۔

یہ بیان پاکستان کی ان سیاسی جماعتوں کی طرح ہے جو شدید اختلافات کے باوجود انتخابات میں ایک دوسرے کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کرتے ہیں۔

مولوی عمر نے گزشتہ روز لکی مروت، سوات اور باجوڑ میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا بھی ایک سیاسی قسم کا جواب دیا کہ’ہوسکتا ہے طالبان ملوث ہوں مگر اس بارے میں ان علاقوں کے طالبان ہی بہتر جانتے ہوں گے ہم نے تو اپنی طرف سے انہیں ایسا کرنے کا اختیار دیدیا ہے‘۔

یعنی تحریک طالبان کے وجود میں آنے کے بعد وہ ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کے ایک اعلان کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے کسی بھی علاقہ میں مبینہ تخریبی کاروائی ہوسکتی ہے کیونکہ ان کے آپس میں رابطے کافی مضبوط ہوگئے ہیں اور ان کی عسکری اور سیاسی حکمت عملی میں ایک تنظیم اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

طالبان اور القاعدہ
مقامی طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
طالبانمشرف کو انتباہ
طالبانائزیشن ملک میں پھیل رہی ہے
افغان پاک جرگہ
طالبان کو نہیں، پاکستان کو احتیاط کی ضرورت
طالبان(فائل فوٹو)طالبان نڈر ہوگئے
پہلے فوجیوں کا اغواء اب سکاؤٹ قلعہ پر دھاوا
امام بارگاہ حملہخودکش فرقہ واریت
’طالبان اور فرقہ واریت کا خطرناک گٹھ جوڑ‘
طالبان وال چاکنگاسلام آباد میں طالبان
دارالحکومت میں طالبان کے حق میں وال چاکنگ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد