BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

طالبان
طالبان اور حکومت کے درمیان اس سے پہلے بھی معاہدے ناکام ثابت ہوئے ہیں
تحریک طالبان نے حکومت پر ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے سکیورٹی فورسز کےخلاف ایک دفعہ پھر کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خود کو طالبان کا ترجمان کہلوانے والے مولوی عمر نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے حکومت نے درہ آدم خیل، سوات اور باجوڑ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں جو بقول ان کے اٹھارہ فروری کے انتخابات سے قبل ان کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی ’خلاف ورزی‘ ہیں۔

ان کے بقول تحریک طالبان کی مرکزی قیادت نے معاہدہ کی ’خلاف ورزی‘ کرنے پر ان علاقوں میں سرگرم طالبان کو اجازت دی ہے کہ وہ جزوی طور پر حکومت کےخلاف کارروائیاں کرسکتے ہیں تاہم مولوی عمر کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر اب بھی طالبان معاہدہ کی پابندی پر کاربند ہیں۔

ان کے مطابق’ ہم عمومی طور پر اب بھی معاہدہ کا احترام کر رہے ہیں لیکن جہاں جہاں حکومت طالبان کےخلاف کارروائی کر رہی ہےوہاں مرکزی قیادت نے طالبان کو جوابی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

تاہم مولوی عمر نےگزشتہ روز لکی مروت میں ڈی ایس پی جاوید اقبال کی گاڑی پر ہونے والے حملہ، اس کے بعد مینگورہ میں ان کے جنازے پر اور سنیچر کو باجوڑ میں لیویز کی گاڑی پر کیے جانے والے حملوں کی براہ راست ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا البتہ کہا کہ ہوسکتا یہ حملے طالبان کی کارروائی ہوں۔

ان کے مطابق’ باجوڑ، لکی مروت اور سوات کے حملوں میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں مگر اس بارے میں وہاں کے علاقوں کے طالبان ہی بہتر جانتے ہونگے کیونکہ طالبان کی مرکزی قیادت نے انہیں جزوی طور پر ایسی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘

ہوتی کے اس بیان کا خیر مقدم
 وزارت اعلی کے عہدہ کے لیے اے این پی کے نامزد امیدوار امیر حیدر خان ہوتی کے اس بیان کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور ان سے مذاکرات کیے جائیں گے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولوی عمر کا کہنا تھا کہ وہ اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں
مولوی عمر

گزشتہ روز صوبہ سرحد کی وزارت اعلی کے عہدہ کے لیے اے این پی کے نامزد امیدوار امیر حیدر خان ہوتی کے اس بیان کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور ان سے مذاکرات کیے جائیں گے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مولوی عمر کا کہنا تھا کہ وہ اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ان کے مطابق’ ہم اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان اور حکومت کے درمیان لڑائی میں دونوں کا نقصان ہے لہذا اے این پی کے نامزد امیدوار کے بیان کے تناظر میں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہونگے۔‘

اسی بارے میں
طالبان کا لہجہ مصالحانہ
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد