ہنگو: مقابلے کے بعد ’طالبان‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں سکیورٹی فورسز نے مقامی طالبان کے ایک اہلکار کو دو گھنٹے کی فائرنگ کے بعد گرفتار کر لیا ہے جبکہ دو جنگجوگاڑی چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تحصیل ٹل میں پولیس کے ایک افسر میر علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح نو بجے کے قریب ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل سے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں تین مسلح مشکوک افراد شمالی وزیرستان کی طرف جارہے تھے کہ ٹل سے چار کلومیٹر جنوب کی جانب کرُم پل میں سپین ٹل چیک پر سکیورٹی فورسز نے گاڑی رکنے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے گاڑی کو بھگادیا۔ جس پر سکیورٹی فورسز نے گاڑی پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجہ میں مسلح افراد نے گاڑی چھوڑ کر دوسری جانب سے سکیورٹی فورسز پر جوابی فائرنگ شروع کی۔ پولیس افسر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تقریباً دو گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا اس کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکار گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ایک مشکوک فرد گاڑی سمیت گرفتار کر لیاگیا ہے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار ہونے والے شخص کا نام عبیداللہ ہے اور اس کا تعلق محسود قبیلے سے ہے۔ گاڑی سے دو کلاشنکوف اور کچھ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں۔ تحصیل ٹل پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحقہ علاقہ ہے جہاں پہلے بھی کئی بار سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے ہوچکے ہیں اور کئی بار اہلکاروں کو اغواء بھی کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں چیک پوسٹ حملہ، صوبیدار ہلاک15 February, 2008 | پاکستان ’نئی تنظیم بےنقاب، شدت پسندگرفتار‘15 February, 2008 | پاکستان ’بات فضل الرحمان کے ذریعے ہوگی‘15 February, 2008 | پاکستان سفیر لاپتہ، غفلت پر خاصہ دار گرفتار14 February, 2008 | پاکستان ایک اور ملزم کا ’اقبالی بیان‘15 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||