سندھ: دس ’شدت پسند‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک نئی شدت پسند تنظیم تحریک اسلامی لشکر محمدی کو بے نقاب کرنے کے بعد اس کے دس کارکنوں کوگرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور بم بنانے کے آلات بھی برآمد کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان شدت پسندوں نے الیکشن سے پہلے کئی اہم سیاسی رہنماؤں اور مختلف غیرمسلم تنظیموں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس مقصد کے لیے کراچی میں ایک لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی جہاں بم بنانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ آئی جی پولیس سندھ اظہر فاروقی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان شدت پسندوں کی گرفتاری اور ان کی تنظیم کے متعلق تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو گزشتہ ماہ اس تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی جس پر اس تنظیم کی خفیہ نگرانی شروع کی گئی اور پندرہ فروری کو کراچی کے علاقوں قیوم آباد، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور بغدادی کے علاقے میں چھاپے مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق پہلے کالعدم جہادی تنظیموں حرکت المجاہدین اور جیش محمد سے تھا اور وہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج کے خلاف طالبان کی کارروائیوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ ’ ان لوگوں نے لال مسجد آپریشن کے بعد اپنی تنظیموں کے رہنماؤں سے اختلاف کے بعد یہ تنظیم بنائی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کی تنظیمیں اپنے اغراض و مقاصد پورے نہیں کر پا رہی ہیں۔‘ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں آصف اقبال عرف کے ایریا والا سعید، یاسر آفاق عرف ناصر عرف سعد، محمد جان عرف مصطفی، عبدالواحد عرف زبیر، زین العابدین عرف زین، محمد آصف، اعانت اللہ خان عرف توصیف، محمد ارشد عرف اسد، محمد ذیشان عرف شانی عرف مستان بلوچ اور وسیم احمد عرف وسیم شامل ہیں۔
سندھ پولیس کے سربراہ نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم کے دو اہم ارکان حسان عامر عرف علی اور وجاہت عرف سمیع مفرور ہیں جن میں سے حسان تنظیم کو فنڈز فراہم کرتا تھا۔ ’حسان عامر پہلے برطانیہ میں کاروبار کرتا تھا اور بعد میں اس نے کراچی آ کر سٹاک ایکسچنج میں کاروبار شروع کردیا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ملزمان کا تعلق مختلف لسانی گروہوں اور کراچی، اندرون سندھ اور صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان کی نشاندہی پر کورنگی انڈسٹریل ایریا سے ایک لیبارٹری بھی ملی ہے جہاں سے بم بنانے کے آلات اور بھاری مقدار میں بارود اور کیمیکل کے علاوہ جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیبارٹری کے انچارج وجاہت عرف سمیع اور حسان عامر تھے جو بم بنانے کے ماہر ہیں اور وہاں اپنے ساتھیوں کو بم بنانے کی تربیت دیتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اس لیبارٹری میں موجود کمپیوٹر سے جدید طریقے سے ریموٹ کنٹرول بم، ٹائم بم اور بم بنانے کے دوسرے طریقوں کے علاوہ کیمیکل کے ذریعے زہر تیار کرنے کے بارے میں معلومات ملی ہیں اور اردو اور انگریزی میں جہادی لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات کے ناموں کی فہرست بھی برآمد ہوئی ہے جنہیں انہوں نے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم انہوں نے صحافیوں کے اصرار کے باوجود ان شخصیات کے نام بتانے سے انکار کیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ اس تنظیم کا بنیادی ہدف کراچی تھا۔
آئی جی پولیس نے کہا کہ تحریک اسلامی لشکر محمدی نامی اس شدت پسند تنظیم کے وانا میں طالبان کمانڈر طاہر اور افغانستان میں ملا داداللہ سے رابطے تھے۔ ’انہوں نے پچھلے سال داداللہ کی ہدایت پر جاپان پلازہ (کراچی) میں ایک دوکان میں ڈکیتی کی واردات کی تھی جس میں تقریباً ایک سو پچاس واکی ٹاکی سیٹ اور دوسرا سامان لوٹ لیا تھا جو کہ بعد میں سہراب گوٹھ میں موجود طالبان لیڈر طاہر کے ذریعے کمانڈر داداللہ کو افغانستان بھجوایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ کراچی میں ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے جن کے ذریعے یہ تنظیم کے لیے فنڈ جمع کرتے تھے اور اس سلسلے میں شہر میں مختلف مقامات پر ان لوگوں نے مکانات اور گودام کرائے پر حاصل کیے ہوئے تھے جن میں اغواء ہونے والے افراد کو رکھا جاتا تھا۔ اظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ ان ملزمان نے کراچی میں موجود چند اہم فلاحی اداروں کے لوگوں کو ہلاک اور اغواء کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا تھا جن پر ان کو شک تھا کہ وہ یہودی تنظیم فری میسن کی ذیلی شاخیں ہیں اور کراچی میں خفیہ طور پر یہودیت، عیسائیت، قادیانیت اور شیعہ مسلک کے نظریات کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ’ملزمان نے مختلف ذرائع سے روٹری کلب، لائنز کلب، تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ممبران کی لسٹ اور دیگر معلومات حاصل کررکھی تھیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان تنظیموں سے وابستہ تین اہم شخصیات کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا جن میں نیشنل بینک کے نائب صدر لیاقت حسین، دارہ فیروز مرزا اور ڈاکٹر حمید اللہ شامل ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری سے کراچی اور صوبہ سندھ بہت بڑے سانحے سے بچ گیا ہے۔ | اسی بارے میں شدت پسند تنظیم کے رہنما گرفتار30 January, 2008 | پاکستان بینظیر قتل کیس، مزید دو گرفتاریاں07 February, 2008 | پاکستان بلوچستان:پرتشدد واقعات، گرفتاریاں03 February, 2008 | پاکستان کراچی میں پولیس مقابلہ، پانچ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان خود کش بمبار کی گرفتاری کا دعویٰ19 January, 2008 | پاکستان سرگودھا حملے کے ذمہ دار گرفتار15 January, 2008 | پاکستان ’گلے کاٹنے کا فتوی دینے والا گرفتار‘17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||