BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 January, 2008, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں پولیس مقابلہ، پانچ ہلاک

کراچی پولیس(فائل فوٹو)
مقابلے کے دوران پولیس پر دستی بم بھی پھینکے گئے(فائل فوٹو)
کراچی میں جند اللہ نامی شدت پسند تنظیم کے ارکان سے پولیس مقابلے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اس تصادم میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ڈی آئی جی کراچی سلمان سید نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ پولیس نے اس کارروائی میں کئی مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا ہے تاہم انہوں نے ان کے نام بتانے سے گریز کیا۔

تین شدت پسند جو کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس مسلحہ تصادم میں ہلاک ہوئے ہیں ان میں دو کی شناخت کر لی گئی ہے جن کے نام قاسم طوری اور طٰٰحہ زادہ بتائے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی کے مطابق یہ گروہ کور کمانڈر کراچی سمیت کئی اعلیٰ شخصیات پر حملوں میں ملوث تھا۔

منگل کو ہونے والے تصادم کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اس گروہ کا کافی عرصے سے تعاقب کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح جب پولیس کو اس گروہ کی سرگرمی کا پتا چلا تو ایک پولیس پارٹی لانڈھی جیل کے قریب واقع آبادی میں پہنچی تو ان پر اس دو منزلہ عمارت میں سے فائرنگ کی گئی اور دستی بم پھینکے گئے۔

سلمان سید کے مطابق کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس تصادم کے بعد جب پولیس اس مکان میں داخل ہوئی تو وہاں سے بڑی تعداد میں اسلح بھی برآمد کیا گیا۔

اس میں چھ کلاشنکوف، دو راکٹ لانچر، تین خود کش جیکٹ، پچیس دستی بم، کئی ہزار گولیاں، پولیس کی وردیاں، دو فوجی جیکٹ اور گاڑیوں کی جعلی نمبر پلیٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔

کراچی میں بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار ریاض سہیل نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے یہ گروہ بینک ڈکیتیوں میں بھی ملوث تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مسلح افراد کی فائرنگ میں پولیس انسپکٹر غلام اصغر ڈاہری اور کانسٹیبل راجہ طارق ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے مدد کے لیے مزید نفری اور رینجرز کو طلب کیا۔

فائرنگ کا سلسلہ تین گھنٹے تک جاری رہا اور پھر اچانک بند ہوگیا جس کے بعد پولیس عمارت میں داخل ہوئی اور ایک مغوی اور چند خواتین کو حراست میں لے لیا۔

ڈی آئی جی پولیس منظور مغل کا کہنا ہے کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم ایک ٹویوٹا کار میں فرار ہوگئے اور بعد ازاں قائد آباد میں ان کا پولیس سے پھر مقابلہ ہوا جس میں دو مسلح افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دو کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جناح ہسپتال لائے گئے زخمیوں میں سے ایک کی شناخت قاسم طوری اور طٰٰحہ زادہ کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ایک ملزم کی جیکٹ سے دستی بم بھی برآمد کیا ہے۔

قاسم طوری
پولیس ریکارڈ میں قاسم طوری کی تصویر

سی آئی ڈی کے مطابق قاسم طوری کور کمانڈر اورگلستان جوہر تھانے پر حملے میں ملوث ہیں اور ان کی گرفتاری پر حکومت نے پانچ لاکھ رپے انعام کا اعلان کیا ہوا ہے۔

سی آئی ڈی کی جانب سے جاری کردہ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست یعنی ریڈ بک کے مطابق محمد قاسم طوری سیالکوٹ کے رہائشی اور پولیس کے سابقہ سپاہی ہیں۔

واضح رہے کہ جنداللہ گروپ پر کراچی کے سابق کور کمانڈر احسن سلیم حیات پر حملے کا الزام ہے، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے اس حوالے سے جنداللہ کے سربراہ عطاالرحمن سمیت دس اراکین کو گرفتار کیا تھا جسے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

اسی بارے میں
آصف چھوٹو کی گرفتاری کا معمہ
28 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد