BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 April, 2007, 06:02 GMT 11:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گوجرانوالہ پولیس مقابلہ جعلی تھا‘

گوجرانوالہ پولیس مقابلہ
نےڈسٹر کٹ ہسپتال کے مردہ خانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا
پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے نواحی علاقہ نندی پور میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے ملزمان کے ورثاء نے الزام لگایا ہے کہ ان کے رشتے داروں کو جعلی پولیس مقابلہ میں ہلاک کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔

ہلاک ہونے والے ملزموں کے ورثاء نےڈسٹر کٹ ہسپتال کے مردہ خانہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے سات ملزموں کو جمعرات کے روز پانچ گھنٹوں کے تعاقب کے بعد مبینہ پولیس میں مقابلہ میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

گوجرانوالہ پولیس نے دس روز پہلے بھی پولیس مقابلہ میں دو زیر حراست ملزموں کوعدالت میں پیشی کے بعد پولیس مقابلہ میں ہلاک کردیا تھا۔

پولیس مقابلہ میں ہلاک ہونے والے ملزموں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم چوبیس گھنٹوں بعد شروع کیا گیا۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام ملزموں کے سینے پر گولیاں لگیں ہیں اور مقابلہ میں کوئی پولیس والا ہلاک نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ پولیس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا تھا

دوملزم طلعت اور سجاد ابھی مفرور ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس کی بس پر باہر سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی بلکہ بس کے اندر سے فائرنگ ہوئی جس سے ایک پولیس ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا جس کے بعد ملزم بھاگ گئے لیکن وقوعہ کے قریب واقع گشتی پولیس کی چوکی کے اہلکاروں نے ملزموں کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔

ہلاک ہونے والے ملزم وقاص کی ماں نے الزام لگایا کہ یولیس نے اس کے بیٹے کوتشدد کانشانہ بنایا اور اس کے چہرے اور سینے پر گولیاں مار کر اسے ہلاک کیا ۔

اسی طرح ملزم مبشر کے بھائی معظم نے بتایا کہ حالات اور واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پولیس نے مقابلہ کا صرف ڈرامہ رچایا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کوئی پولیس والا زخمی تک نہیں ہوا۔

ملزم منشا کی بہن نے کہا کہ اس کے بھائی کو پولیس والوں نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے قتل کیا۔ میرے بھائی کی گردن پر سامنے سے گولی ماری گئی ہے ۔اگر پولیس نے اس کو فرار ہوتے ہوئے ہلاک کیا ہے تو گولی اس کی پشت پر لگنی تھی۔

ملزم منشا کی بہن نے کہا کہ اس کے بھائی کو پولیس والوں نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے قتل کیا

پولیس ترجمان کے مطابق نندی پور کے قریب پولیس نے ملزمان کا گھیراؤ کرکے ان کو گرفتاری دینے کے لئے کہا جس پر ملزمان نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کردی اور پولیس نے بھی اپنے بچاؤ کے لیے جوابی فائرنگ کی۔ ترجمان کے مطابق فائرنگ رکنے پر اہلکاروں نےجا کر دیکھا تو سات ملزمان کی لاشیں پڑی تھیں۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزموں میں وقاص، جہانگیر، عرفان، مبشر، مظہر اقبال، عزادار اور منشا شامل ہیں۔

سٹی پولیس آفیسر گوجرانوالہ نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو انعامات دینے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد