دو پولیس اہلکار ہلاک، قیدی فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوجرانوالہ کے نواح میں پولیس وین میں سوار زیر حراست نو ملزمان دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر کے فرار ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اب تک چھ مفرور قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کےمطابق فرار ہونے والے ملزمان ڈکیتی رہزنی اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث تھے اور پولیس اہلکار گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد واپس سیالکوٹ کی جیل لے جا رہے تھے۔ یہ ملزمان گوجرنوالہ کے تھانوں میں درج مقدمات میں ملوث تھے لیکن انہیں سیالکوٹ کی جیل میں رکھا گیا تھا۔ سنگین مقدمات میں ملوث نو قیدیوں کو لیے جانے کے لیے پولیس کی وین میں ڈرائیور سمیت صرف چاراہلکار تھے جن میں سے دو وین کے عقبی حصے میں ملزمان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ پولیس کے مطابق گاڑی نندی پور کے قریب پہنچی تو ملزمان نے شور مچانا شروع کر دیا کہ انہیں پیاس لگی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے پولیس کی پٹرولنگ پوسٹ کے نزدیک گاڑی روکی تو ہتھکڑی لگے ملزمان نے اچانک کانسٹیبل سے اس کی رائفل چھین کر فائرنگ شروع کردی جس سے کانسٹیبل نیاز باجوہ اور ڈرائیور سلامت ہلا ک ہوگئے۔ فائرنگ سے ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے ایک اسٹنٹ سب انسپکٹر عباس زخمی ہوئے جبکہ ملزمان ہتھکڑیوں سمیت فرار ہوگئے۔ پولیس انسپکٹر عامر حسین سندھو کے مطابق چھ مفرور قیدیوں کو پکڑ لیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری میں مقامی دیہات کے لوگوں نے مدد کی ہے جبکہ بقیہ مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ جمعرات کو گوجرانوالہ کے نواح میں ہونے والی واردات کے ملزموں کی تلاش کے لیے پولیس نے فوج کے ہیلی کاپٹر کی مدد بھی حاصل کی ہے۔ریجنل پولیس آفیسر سید سعود عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور قیدیوں کی تلاش میں دیہات اور ویران علاقوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ ایک روز پہلے ہی لاہور میں بھی عدالت میں پیشی کے موقع پر چند قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور ان کی فائرنگ سے چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ پولیس کی فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک ہوگیا تھا۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شکرگڑھ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سنگین جرائم کی شرح خاصی زیادہ ہے اورپنجاب کے کئی ٹاپ ٹین بدمعاشوں کا تعلق انہی علاقوں سے بتایا جاتا رہا ہے۔ چار برس قبل بھی سیالکوٹ جیل میں دورے پر آنے والے ججوں کو قیدیوں نے یرغمال بنایا تھا اور ان کی رہائی کے لیے ہونے والے آپریشن کے دوران چار جج اور پانچ قیدی ہلا ک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں ’پولیس کا انتقام‘20 March, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: آئی بی انسپکٹر کا قتل07 February, 2007 | پاکستان پولیس اپنی حفاظت کے لیے فکر مند30 January, 2007 | پاکستان پولیس پر تنقید، ایم پی اے گرفتار19 January, 2007 | پاکستان جرائم میں اضافہ اور نیا پولیس نظام19 December, 2006 | پاکستان پولیس پر فائرنگ، تین اہلکار ہلاک22 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||