پولیس پر تنقید، ایم پی اے گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے قتل میں نامزد ملزموں کی گرفتاری نہ ہونے پر کہا ہے کہ پولیس کی کارکردگی ایسی خراب رہی تو ہائی کورٹ کیوں نہ پولیس کے اکاؤنٹس منجمد کردے اور عوام کی فلاح کے لیے اس کا بجٹ خود استعمال کرے۔ عدالت عالیہ کا ایک تین رکنی بینچ بارہ جنوری کو قتل کیے جانے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عارف بھنڈر کے والد اکبر بھنڈر کی آئینی رٹ درخواست کی سماعت کررہا تھا جس میں درخواست گزار نے کہا تھا کہ پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کررہی اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔ دریں اثنا ایس پی پولیس (تفتیش) لاہور کینٹ بابر بخت نے بی بی سی کو بتایا کہ رکن پنجاب اسمبلی منشا سندھو اور ان کے بھائی محمد سلیم سندھو کو نیاز سندھو کے قتل میں شامل تفتیش کرلیا گیا ہے اور جمعہ کی سہ پہر ان سے تفتیش کی جارہی تھی۔
عدالت عالیہ نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ چھبیس جنوری کو عارف بھنڈر اور اسی دن دوسرے قتل ہونے والے وکیل نیاز سندھو کے مقدموں کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ عدالت عالیہ کو پیش کرے۔ عدالت نے پولیس سے کہا کہ وہ بتائے کہ اسے ملزموں کی گرفتاری کے لیے کتنا وقت درکار ہے۔ عدالت عالیہ نے وکلاء سے درخواست کی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ جج مزمل خان نے کہا کہ عدالت عالیہ خود اپنی ذمہ داری پورا کرے گی ورنہ ہم گھر چلے جائیں گے۔
جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے نوٹس پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب آفتاب اقبال، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب احمد نسیم، چیف سیکریٹری پنجاب سلمان صدیق اور لاہور پولیس کے اعلی افسران عدالت عالیہ میں پیش ہوئے۔ عدالت عالیہ میں ایڈوکیٹ جنرل پنجاب آفتاب اقبال نے کہا کہ حکومت نے عارف بھنڈر اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے ملزموں کو پکڑنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے گرفتاریوں کے لیے کئی چھاپے مارے ہیں اور وفاقی انٹیلی جنس بیورو کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کامران یوسف سمیت کئی افراد کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت عالیہ سے کہا کہ آٹھ دس دنوں میں ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ عدالت عالیہ کے جسٹس چودھری مزمل خان نے کہا کہ پولیس کا بجٹ چند برسوں میں پانچ ارب سے اکیس ارب روپے ہوگیا ہے اورامن و امان کی صورتحال سنگین ہے کہ لوگ گھروں میں محفوظ نہیں اور لاہور شہر میں ایک دن میں دو وکلاء قتل کردیے گئے۔ جج نے کہا کہ پولیس کی کارکردگی ایسی رہی تو ہم اس کا بجٹ منجمد کردیں گے۔ جج نے کہا کہ ہم ٹیک اوور کرلیتے ہیں اور کسی اور ایجنسی کو بلا لیتے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس احمد نسیم نے عدالت عالیہ سے کہا کہ عدالت کی تشویش بجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور ایک طریقہ کار کے مطابق تفتیش کررہی ہے اور ملزموں کو پکڑنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ جج نے پولیس افسروں سے پوچھا کہ عارف بھنڈر قتل میں نامزد ملزمان ڈیڑھ سال پہلے بھی ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کے مقدمہ میں نامزد تھے لیکن پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔ آئی جی پولیس احمد نسیم نے عدالت عالیہ سے کہا کہ قاتلانہ حملےکے دو ملزموں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ کچھ ملزم ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ سماعت کے دروان میں وکلاء کے نمائندوں نے یہ معاملہ بھی اٹھایا کہ لاہور میں پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس افسروں کی تقرریاں کی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ذوالفقار بخاری نے عدالت عالیہ میں کہا کہ پولیس آرڈر کے تحت کوئی افسر تین سال سے زیادہ ایک جگہ تعینات نہیں رہ سکتا لیکن لاہور میں لوگ پانچ پانچ سال سے تعینات ہیں۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ پولیس آرڈر کے تحت ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدہ کا افسر ہی لاہو رمیں سٹی پولیس چیف تعینات ہوسکتا ہے لیکن چند روز پہلے حکومت نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس رینک کے ایک جونئیر افسر کو اس عہدہ پر مقرر کیا ہے۔ اس پر جج مزمل خان نے کہا کہ لاہور میں پولیس آرڈر کی خلاف ورزی میں بڑی مدت سے افسر تیعنات ہیں حالانکہ وہ ان عہدوں کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے کہا کہ وہ عدالت عالیہ میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں کہ کون کون سی تقرریاں پولیس آرڈر کی خلاف ورزی میں کی گئی ہیں۔ جج نے کہا کہ پولیس آرڈر پر پوری طریقے سے عمل درآمد ہونا چاہیے۔ عدلیہ کا تین رکنی بینچ جسٹس مذمل خان، جسٹس ایم بلال اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ دوسری طرف، وکلاء نے جمعہ کو چھٹے روز مسلسل ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ایوان عدل سے لاہور ہائی کورٹ تک جلوس نکالا۔ | اسی بارے میں اے اے جی پنجاب سمیت8 قتل12 January, 2007 | پاکستان پنجاب میں وکلاء کی ہڑتال15 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||