پولیس اہلکاروں کو مارنے والے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرکے فرار ہونے والے سات ملزموں کو پولیس نے پانچ گھنٹے کے تعاقب کے بعد مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس خادم حسین بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزموں سے پولیس کا لوٹا گیا سرکاری اسلحہ یعنی دو کلاشنکوفیں بھی برآمد ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ ان سے پانچ پستول بھی ملے ہیں۔ ان ملزموں پر الزام ہے کہ انہوں نے آج صبح دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور دو کو زخمی کیا تھا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکار گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نو زیر حراست قیدیوں کو پیش کروانے کے بعدپولیس وین میں واپس سیالکوٹ جیل چھوڑنے جار ہے تھے۔ قتل، اقدام قتل، پولیس مقابلے ،ڈکیتی اور رہزنی جیسے سنگین مقدمات میں ملوث نو قیدیوں کو لے جانے کے لیے پولیس کی وین میں ڈرائیور سمیت کل چارہی اہلکار تھے جن میں سے دو وین کے عقبی حصے میں ملزموں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے نندی پور میں زیر حراست قیدیوں نے اچانک ایک پولیس کانسٹیبل سے کلاشنکوف چھین کرڈرائیور اور ایک کانسٹیبل کو ہلاک اور ایک کانسٹیبل اور اگلی سیٹ پر بیٹھے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو زخمی کردیا تھا۔ یہ واقعہ ایک پٹرولنگ پوسٹ کے نزدیک پیش آیا تھا اور تمام نوملزمان ہتھکڑیوں سمیت فرار ہوگئے تھے۔ ان کی گرفتاری کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر کی مدد بھی لی گئی۔ دوگھنٹے کے بعد پولیس کے اہلکاروں نے مقامی اخبار نویسوں کو چند قیدیوں کے دوبارہ پکڑے جانے کی اطلاع دی تھی جس کی اعلیٰ افسرو ں نے بعد میں تردید کر دی ۔ ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے بتایا کہ وہ قابو نہیں آ سکے تھے اورپولیس ان کے تعاقب میں رہی پانچ گھنٹے کے بعد ملزموں نے ایک ویران علاقے میں جھاڑیوں کی آڑ سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں سات ملزم ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔ اس سے پہلے بدھ کولاہورمیں بھی عدالتی پیشی کے موقع پر چند قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور ان کی فائرنگ سے دو پولیس والے زخمی ہوگئے تھےجبکہ پولیس کی فائرنگ سے ایک قیدی ہلاک ہوا۔ صوبہ پنجاب میں گوجرانوالہ سیالکوٹ اور نارووال کے اضلاع میں سنگین جرائم کی شرح خاصی نمایاں ہے اورپنجاب کے کئی ٹاپ ٹین بدمعاشوں کا تعلق انہی علاقوں سے بتایا جاتا رہا ہے۔ اب سے چار سال قبل سیالکوٹ جیل کا دورہ کرنے والے ججوں کو قیدیوں نے یرغمال بنالیا تھا اور ان کی رہائی کے آپریشن میں چار جج اور پانچ قیدی ہلا ک ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں ’پولیس کا انتقام‘20 March, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: آئی بی انسپکٹر کا قتل07 February, 2007 | پاکستان پولیس اپنی حفاظت کے لیے فکر مند30 January, 2007 | پاکستان پولیس پر تنقید، ایم پی اے گرفتار19 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||