BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 21:36 GMT 02:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علی پور پولیس مقابلہ، پانچ ہلاک

پولیس
پولیس ہر مرتبہ ’بوسن گینگ‘ کے خاتمے کا دعویٰ کرتی ہے
پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ کے علاقے علی پور میں منگل کے روز مبینہ طور پر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے پولیس مقابلے کے نتیجے میں تین زیر حراست ملزم اور ایک پولیس کانسٹیبل سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں متعدد قیدیوں کو جیل سے علی پور کی تحصیل عدالت میں پیش ہونے کے لیئے لایا گیا تھا۔ ان قیدیوں میں سنگین جرائم میں نامزد ملزمان ناظم بوسن اور مشتاق بلوچ بھی شامل تھے۔

ملزمان کو جب قیدیوں کی گاڑی سے نکال کر عدالتی حوالات میں منتقل کیا جارہا تھا تو عین اسی وقت حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر ایک طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔

فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی عبدالرشید اور ایک قیدی شاہد موقع پر ہلاک ہوگئے۔ جبکہ اس دوران ناظم بوسن اور مشتاق بلوچ ہتھکڑیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مظفرگڑھ کےضلعی پولیس افسر رائے طاہر کے مطابق اس ’ہنگامی‘ صورتحال سے نمٹنے کے لیئے پولیس کی مزید نفری علی پور روانہ کی گئی تاکہ فرار ہونے والے خطرناک ملزموں کی تلاش کی جاسکے۔ ان کے مطابق چند گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد مشتاق بلوچ کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ ایک زیر تعمیر مکان میں پناہ لیئے ہوئے ہے۔

بلوچ کو ہتھیار پھینکنے کے لیئے کہا گیا لیکن اس نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مشتاق بلوچ ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق کچھ ہی دیر بعد پولیس کی ایک اور جماعت نے ناظم بوسن کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ علی والا جنگل میں موٹر سائیکل پر سوار دیکھ لیا۔

دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ناظم بوسن اور اس کا ساتھی ہلاک ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی شناخت امجد علی کے طور پر کی گئی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ عدالتی حوالات کے قریب پولیس پر فائرنگ امجد نے ہی کی ہوگی۔

مظفر گڑھ، رحیم یار خان اور راجن پور کے اضلاع میں دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے میں پچھلے کچھ عرصہ سے ’بوسن گینگ‘ کے نام سے جرائم پیشہ افراد کا ایک گروہ سرگرم عمل ہے۔ یہ لوگ اغوا برائے تاوان کے حوالے سے دہشت کی علامت ہیں۔ تاہم حال ہی میں متعدد پولیس مقابلوں میں اس گروہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہر دفعہ پولیس حکام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ’بوسن گینگ‘ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس گروہ کے نام سے ہونے والے جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

علی پور میں ہلاک ہونے والے ناظم، مشتاق اور امجد کا تعلق بھی اسی بوسن گینگ سے جوڑا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
آصف چھوٹو کی گرفتاری کا معمہ
28 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد