آصف چھوٹو کی گرفتاری کا معمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک نجی ٹیلی وژن چینل نے بدھ کو ذرائع کے حوالہ سے فرقہ واررانہ عسکری تنظیم لشکر جھنگوی کے قائد آصف چھوٹو کی گرفتاری کی خبر دی ہے تاہم راولپنڈی پولیس نےاس گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔ راولپنڈی پولیس کے ضلعی پولیس افیسر سعود عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی شخص گرفتار نہیں کیا اور نہ پولیس کو ایسی کسی گرفتاری کا علم ہے۔ چونکہ پاکستان میں عسکری تنظیموں سے وابستہ افراد کی گرفتاری میں انٹیلی جنس ایجنیساں جیسے آئی ایس آئی اور آئی بی وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں اور بعض اوقات عسکریت پسند مطلوب افراد کو گرفتار کیے جانے کے بہت دن بعد اس کا اعلان کیا جاتا ہے اس لیے عام لوگ پولیس کی تردید پر کم اور میڈیا کی ذرائع پر مبنی خبروں پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ آصف چھوٹو لشکر جھنگوی کا قائد بتایاجاتا ہے جسے کراچی میں شیعہ مسلک کے امام بارگاہوں پر کیے جانے والے مختلف بم دھماکوں میں ملوث بتایاجاتا ہے۔ اس کا تعلق مظفر گڑھ کے علقاہ دائرہ دین پناہ سے ہے۔ تاہم بعد میں وہ کراچی میں رہائش پذیر ہوگیا تھا۔ اس کی گرفتاری پر انعام کے بیس لاکھ روپے مقرر تھے۔ افغانستان پر امریکہ حملہ کے بعد لشکر جھنگوی کے قائد ریاض بسرا کے پاکستان واپس آنے اور مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوجانے کے بعد ان کی تنظیم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی جس میں سے ایک دھڑے کی قیادت آصف چھوٹو کے پاس بتائی جاتی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ پولیس آصف چھوٹو کی گرفتاری کو اس لیے ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ اس طرح تفتیش متاثر ہوگی۔ اس چینل کے مطابق آصف چھوٹو کے ساتھ پولیس نے اس کے ایک ساتھی شاہد ستی کو بھی گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تھانہ کوٹلی ستاں ضلع راولپنڈی سے ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||