BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2003, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر جھنگوی کے کارکن گرفتار
بس دھماکہ
کراچی میں تشدد کا ایک اور منظر

سندھ پولیس سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث گروہ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی سید کمال شاہ نے بدھ کو اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ پولیس نے چار ملزمان گرفتار کئے ہیں جو (بقول ان کے) کراچی میں ہونے والی فرقہ وارانہ تشدد کی کئی حالیہ وارداتوں میں ملّوث ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے ان وارداتوں میں فروری میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والا وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آئی جی سندھ کمال شاہ کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزموں میں شاہنواز عرف شان، مسرورالحق، محمّد جاوید اور محمّد شمیم شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق چاروں ملزموں کا تعلق کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے۔

آئی جی سندھ کے مطابق ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں انہوں نے سپارکو کی بس پر فائرنگ کر کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں یہ لوگ پولیس پر متعدد حملوں اور موٹر سائیکل میں بم نصب کرنے کی ایک واردات میں بھی ملوث بتائے جاتے ہیں۔ آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں سے کچھ اسلحہ بارود بھی برامد ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد