BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسند تنظیم کے رہنما گرفتار

قاسم طوری
قاسم طوری کراچی کے کور کمانڈر پر حملے میں مطلوب تھا
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر حملہ کیس کے مفرور ملزم قاسم طوری اور طیب داد سمیت چار مشتبہ ملزمان اور چار خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے اور جائے وقوع سے بھاری اسلحہ اور دھماکہ خیز مادہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مقابلے میں تین ملزم ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے دو کی شناخت جنید اور عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔پولیس نے ہلاک ہونے والے ملزمان کے چار ساتھیوں کو بھی حراست لیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کی شناخت قاسم طوری، عابد، دانش اور طیب داد کے نام سے کی ہے، جن میں سے دانش اور طیب داد جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ملزم قاسم طوری اور طیب داد کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں مطلوب ہیں۔ دونوں کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ رپے انعام بھی رکھا گیا تھا۔

سی آئی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق طیب داد کراچی کا رہائشی ہے اور گریجویٹ ہے۔

مقابلے کے بعد پولیس نے عمارت میں سے چار خواتین اور چار بچوں کو بھی حراست میں لیا ہے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ ملزمان کا ان سے کیا تعلق ہے۔

حملے کا منصوبہ
News image
 ملزمان سے جو خودکش جیکٹس اور اسلحہ بارود ملا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی بڑی تخریبکاری کا ارداہ رکھتے تھے
پولیس

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے جو خودکش جیکٹس اور اسلحہ بارود ملا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی بڑی تخریبکاری کا ارداہ رکھتے تھے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ مزید تفتیش جاری ہے۔

شاھ لطیف ٹاؤن اور لانڈھی ٹاؤن تھانوں پر ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی اور ایکسپلوزو ایکٹ اور اقدام قتل کے چار مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔

سی سی پی او نے مزید کہا کہ یہ ملزمان سنہ دو ہزار چار میں کراچی کے اس وقت کے کور کمانڈر پر حملے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ یہ ملزمان پاک امریکن کلچرل سینٹر اور ٹرینٹی چرچ کے باہر بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے۔ ان پر کراچی میں گلستان جوہر پولیس تھانے پر حملے کا بھی الزام ہے جس میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی میں بھارتی فنکار سونو نگھم کے کنسرٹ کے باہر بھی بم دھماکہ کیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد
ملزمان کے قبضے سے برآمد کیا گیا دھماکہ خیز مواد

نیاز صدیقی نے بتایا کہ ملزمان نے حالیہ دنوں میں شہر کے مختلف بینکوں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں کی تھیں جن کے لیے انہوں نے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں استعمال کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم بینک سے لوٹنے والی رقم بارود اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرتے تھے۔

کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم گزشتہ چار سالوں سے شہر میں وارداتیں کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب مقابلے میں ہلاک ہونے والے انسپیکٹر غلام اصغر کی میت نوابشاہ اور ہیڈ کانسٹیبل راجہ طارق کی میت راولپنڈی روانہ کردی گئی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی لاشیں ایدھی سرد خانے میں رکھوائی گئیں ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے لواحقین نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے اگر وہ رابطے کریں گے تو لاشیں ان کے حوالے کردی جائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد