شدت پسند تنظیم کے رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر حملہ کیس کے مفرور ملزم قاسم طوری اور طیب داد سمیت چار مشتبہ ملزمان اور چار خواتین کو حراست میں لیا گیا ہے اور جائے وقوع سے بھاری اسلحہ اور دھماکہ خیز مادہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے سربراہ نیاز احمد صدیقی نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مقابلے میں تین ملزم ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے دو کی شناخت جنید اور عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے ۔پولیس نے ہلاک ہونے والے ملزمان کے چار ساتھیوں کو بھی حراست لیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کی شناخت قاسم طوری، عابد، دانش اور طیب داد کے نام سے کی ہے، جن میں سے دانش اور طیب داد جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ملزم قاسم طوری اور طیب داد کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں مطلوب ہیں۔ دونوں کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ رپے انعام بھی رکھا گیا تھا۔ سی آئی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق طیب داد کراچی کا رہائشی ہے اور گریجویٹ ہے۔ مقابلے کے بعد پولیس نے عمارت میں سے چار خواتین اور چار بچوں کو بھی حراست میں لیا ہے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تفتیش کی جا رہی ہے کہ ملزمان کا ان سے کیا تعلق ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے جو خودکش جیکٹس اور اسلحہ بارود ملا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی بڑی تخریبکاری کا ارداہ رکھتے تھے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ مزید تفتیش جاری ہے۔ شاھ لطیف ٹاؤن اور لانڈھی ٹاؤن تھانوں پر ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی اور ایکسپلوزو ایکٹ اور اقدام قتل کے چار مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ سی سی پی او نے مزید کہا کہ یہ ملزمان سنہ دو ہزار چار میں کراچی کے اس وقت کے کور کمانڈر پر حملے میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ یہ ملزمان پاک امریکن کلچرل سینٹر اور ٹرینٹی چرچ کے باہر بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے۔ ان پر کراچی میں گلستان جوہر پولیس تھانے پر حملے کا بھی الزام ہے جس میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کراچی میں بھارتی فنکار سونو نگھم کے کنسرٹ کے باہر بھی بم دھماکہ کیا تھا۔
نیاز صدیقی نے بتایا کہ ملزمان نے حالیہ دنوں میں شہر کے مختلف بینکوں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں کی تھیں جن کے لیے انہوں نے سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں استعمال کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم بینک سے لوٹنے والی رقم بارود اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرتے تھے۔ کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم گزشتہ چار سالوں سے شہر میں وارداتیں کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب مقابلے میں ہلاک ہونے والے انسپیکٹر غلام اصغر کی میت نوابشاہ اور ہیڈ کانسٹیبل راجہ طارق کی میت راولپنڈی روانہ کردی گئی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی لاشیں ایدھی سرد خانے میں رکھوائی گئیں ہیں۔ کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے لواحقین نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے اگر وہ رابطے کریں گے تو لاشیں ان کے حوالے کردی جائیں گی۔ | اسی بارے میں کراچی میں پولیس مقابلہ، پانچ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان جنداللہ کے امیر سمیت چھ بری20 June, 2006 | پاکستان حرکت العالمی کا رکن گرفتار03 April, 2006 | پاکستان کور کمانڈر پر حملہ، 11 کو سزائے موت 21 February, 2006 | پاکستان سندھ میں دہشت گردوں پر انعامات 25 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||