جنداللہ کے امیر سمیت چھ بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے شدت پسند تنظیم جنداللہ کے امیر اور نائب امیر سمیت چھ افراد کو دو بم دھماکوں کے مقدمات سے باعزت بری کردیا ہے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے مرینہ کلب ڈفینس اور بائبل سوسائیٹی کے دفتر کے باہر بم دھماکے کیئے تھے، ان دونوں دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت نمبر دوئم کے جج فیروز محمود بھٹی نے ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیئے پیش کیئے گئے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں باعزت بری کرنے کا حکم سنایا۔ ڈفینس کے مرینہ کلب میں دس اپریل سنہ دوہزار کو اس وقت ایک کار میں بم دھماکہ کیا گیا تھا جب بھارتی گلوکار سونو نگم کا کنسرٹ جاری تھا۔ اس بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔ درخشاں تھانے پر درج مقدمے میں جنداللہ کے امیر عطاالرحمان، نائب امیر شہزاد باجوہ، عذیر احمد اور دانش امام کو ملزم قرار دیا گیا تھا جنہیں منگل کے روز بری کیا گیا۔ صدر کے علاقے میں بائبل سوسائیٹی کے دفتر کے باہر پندرہ جنوری سن دو ہزار چار کو دو بم دھماکے کیئے گئے تھے جن میں پولیس اور رینجرز کے چھ اہلکاروں سمیت بارہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس مقدمے میں پولیس کی جانب سے جنداللہ کے امیر عطاالرحمان، نائب امیر شہزاد باجوہ، شہزاد مختار اور راؤ خالد کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ جنداللہ کے امیر سمیت سات اراکین کو انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت کراچی کے کور کمانڈر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائے موت سنا چکی ہے جس کے خلاف انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ |
اسی بارے میں کراچی میں بم دھماکہ15 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||