BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 February, 2006, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کور کمانڈر پر حملہ، 11 کو سزائے موت

ملزمان کے خاندان والے
عدالت کے باہر ملزمان کے خاندان والے بھی موجود تھے
کراچی کی ایک عدالت نے کورکمانڈر پر قاتلانہ حملے کے گیارہ ملزمان کو سزائے موت دینے اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

شدت پسند تنظیم جنداللہ سے تعلق رکھنے والے ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو ہزار چار میں کلفٹن پل پر کراچی کے کور کمانڈر احسن سلیم حیات پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب وہ اپنے گھر جا رہے تھے۔

حملے اور اس موقع پر ہونے والے بم دھماکوں میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے چھ فوجی تھے۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج فیروز بھٹی نے منگل کی دوپہر ساڑھے تین بجے یہ فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر تمام گیارہ ملزمان جن میں جنداللہ کے سربراہ عطاالرحمان جمشید اور سب سے کم عمر ملزم نجیب بھی شامل تھے عدالت میں موجود تھے۔

فیصلے کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے

عدالت نے قتل کے الزام میں ملزمان کو سزائے موت، بم دھماکے کے الزام میں عمر قید اور جائیداد ضبط کرنے، کورکمانڈر پر حملے کے الزام میں چودہ سال قید اور پچاس ہزار جرمانہ اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے بتایا کہ فیصلے کا اطلاق ہائیکورٹ کی توثیق کے بعد ہوگا۔

ملزمان میں عطاالرحمن، شہزاد باجوہ، دانش امام، یعقوب سعید خان، خرم سیف اللہ، عزیز احمد، نجیب اللہ، شہزاد مختار، راؤ خالد، شعیب صدیقی اور محمد خالد شامل ہیں۔

سزا سننے کے بعد ملزمان نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور ملزمان کے سربراہ عطاالرحمان نے بلند آواز میں کہا کہ ’ہمارے حوصلے بلندہیں اور ہمیں اس راہ پر دس سزائیں بھی قبول ہیں‘۔

کورکمانڈر پر حملے کے ملزمان

ملزم شہزاد مختار کے وکیل مشتاق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملزمان کی پندرہ دن کے بعد شناختی پریڈ کروائی گئی تھی اور یہ فیصلہ دستیاب ثبوتوں کی بنا پر نہیں دیا گیا جس کے خلاف ہم ہائی کورٹ میں جائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ وہاں سے یہ بری ہوجائیں گے‘۔

وکیل استغاثہ مولابخش بھٹی نے بی بی سی کو بتایاکہ عدالت نے قانون اور دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے۔دن دہاڑے یہ واقعہ ہوا تھا جس کے کافی ثبوت موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ملزمان نے پولیس وردی میں یہ حملہ کیا تھا جو ملزم شہزاد کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں اور دو ملزمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان دیا تھا کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے‘۔

اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے

عدالت کے باہر ملزمان کے خاندان والے بھی موجود تھے جنہیں عدالت کے احاطے میں بھی آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس اور رینجرز کے اہلکار عدالت کے چاروں طرف تعینات تھے۔

سب سے کم عمر ملزم نجیب کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بند کمرے میں جھوٹ پر مبنی فیصلہ سنایا گیا ہے۔پندرہ سولہ سال کے بچوں کو گھروں سے اٹھاکر لے گئے تھے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے لڑکے یتیم اور غریب ہیں جن کا مستقبل تباہ کیا گیا ہے اور یات کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈیڑھ سال سے یہاں کے چکر لگا رہی ہیں اور انہوں نےاس کیس کا فیصلہ اللہ کی عدالت پر چھوڑا ہوا ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد