BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 June, 2004, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کور کمانڈر پر حملہ جنداللہ نے کیا تھا‘
News image
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے تصدیق کی ہے کہ کراچی میں کورکمانڈر لیفٹنٹ جنرل احسن سلیم حیات پر ہونے والے حملے میں ملوث آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک شدت پسند تنظیم جنداللہ کے دس گیارہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن میں سے آٹھ افراد گزشتہ دونوں کورکمانڈر کراچی کے قافلے پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان آٹھ افراد میں سے دو نے وانا میں ازبک شہریوں سے تربیت بھی حاصل کی ہے۔

اس سے قبل ان گرفتاریوں کا انکشاف جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات اور وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے اتوار کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔

شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر ان لوگوں کا تعلق القاعدہ تنظیم سے ہی ہے۔

News image

گرفتار شدگان میں جنداللہ کے سرغنہ عطاء الرحمان اور نائب شہزاد بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گرفتار ہونے والے ایک شدت پسند کا نام شیخ رشید کے بقول ڈاکٹر اکمل وحید ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہ شدت پسندوں کا ایک انتہائی سرگرم اور خطرناک گروہ تھا جس نے گزشتہ چند مہینوں میں کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں ایک تسلسل کے ساتھ شدت پسندانہ کارروائیاں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی قونصلیٹ پر حملے کے علاوہ یہ گروہ رینجرز اورگلستان جوہر میں ہونے والے واقعات میں بھی ملوث تھا۔

انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر پر حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مارے جانے والے چھاپوں سے انہیں کچھ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن کی مدد سے وہ کوئٹہ میں عاشور کے جلوس پر ہونے والے حملے اور کراچی میں مفتی نظام الدین شامزئی اور مسجد الرضا پر ہونے والے حملے کے ملزمان تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں عاشور کے جلوس اور پولیس والوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کا بھی انہیں پتہ چل گیا ہے۔

انہوں نے کہا اس سلسلے میں بھی جلد ہی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے سرکردہ رکن خالد شیخ محمد کے بھتیجے مصعب الروچی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الروچی کراچی کے واقعات میں تو ملوث نہیں تاہم ان کے سر کی قیمت دس لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے کراچی میں کور کمانڈر کی گاڑیوں کے قافلے پر گزشتہ ہفتے حملہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد