BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 June, 2004, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کور کمانڈر نشانہ تھے: فوجی ترجمان

News image
اس حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے
کراچی میں جمعرات کو مقامی کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر مشین گنوں سے حملہ ہوا ہے جس سے سات فوجیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک شہری اورتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جس کے سربراہ ڈی آئی جی ( انویسٹیگیشن) ہوں گے۔ اعلان کے مطابق خفیہ ادارے اس ٹیم کی مدد کریں گے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے اس واقعہ کو پانچ کور کے کور کمانڈر پر ’دہشت گردی‘ کا حملہ قرار دیا۔

فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے صحافیوں کو بتایا کہ مرنے والوں میں سات فوجی اہلکار شامل ہیں لیکن کوئی اعلیٰ فوجی افسر ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ کلفٹن برج پر ہوا جو امریکی قونصلیٹ سے چند سو میٹر دور ہے۔

علاقے میں رہنے والوں اور عینی شاہدین نے کہا ہے کہ جونہی کور کمانڈر کا موٹر کیڈ کلفٹن برج پر سے گزرا، اس پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ حملہ آوروں نے دو مختلف سمتوں سے موٹر کیڈ پر فائرنگ کی۔ اس موٹر کیڈ میں گاڑیوں کی تعداد چھ سے سات تھی۔

News image

اس حملے کے فوراً بعد اسی جگہ ایک دھماکہ بھی ہوا جہاں سے کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس دھماکے سے چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔

حملے کے فوراً بعد کراچی میں فوجی ترجمان کرنل محمد ادریس نے بتایا کہ کلفٹن برج پر ایسی چند گاڑیاں جو ڈیوٹی پر تھیں،گولیوں کی زد میں آئیں۔ انہوں نے کہاں کہ کور کمانڈر بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے دفتر میں ہیں۔

کور کمانڈر کی گاڑی اور اس کے پیچھے آنے والی چند دوسری گاڑیاں فائرنگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں۔ لیکن موٹر کیڈ کے پچھلے حصے کی گاڑیاں گولیوں کی زد میں آگئیں۔

ان گاڑیوں پر فائرنگ اتنی شدید تھی کہ ہسپتال میں لائے گئے افراد کے جسموں پر درجنوں کی تعداد میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

فائرنگ کے بعد اسی مقام پر جہاں سے موٹر کیڈ پر فائرنگ ہوئی تھی موٹر سائیکل میں رکھا ہوا بم دھماکہ سے پھٹ گیا جبکہ ماہرین نے ایک دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا جو بظاہر کلفٹن برج کو دھماکے سے اڑانے کے لئے نصب کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سات زخمیوں کو جناح ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ان زخمیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا جنہیں نیول ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔

فوجی اور پولیس اہلکاروں اور گھات لگا کر حملہ کرنے والوں کے درمیان کئی منٹ تک فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ جمعرات کا واقعہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کراچی میں ہونے والے بم حملوں اور چن چن کر مارنے والے واقعات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد