کور کمانڈر نشانہ تھے: فوجی ترجمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کو مقامی کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر مشین گنوں سے حملہ ہوا ہے جس سے سات فوجیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک شہری اورتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جس کے سربراہ ڈی آئی جی ( انویسٹیگیشن) ہوں گے۔ اعلان کے مطابق خفیہ ادارے اس ٹیم کی مدد کریں گے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے اس واقعہ کو پانچ کور کے کور کمانڈر پر ’دہشت گردی‘ کا حملہ قرار دیا۔ فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے صحافیوں کو بتایا کہ مرنے والوں میں سات فوجی اہلکار شامل ہیں لیکن کوئی اعلیٰ فوجی افسر ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ کلفٹن برج پر ہوا جو امریکی قونصلیٹ سے چند سو میٹر دور ہے۔ علاقے میں رہنے والوں اور عینی شاہدین نے کہا ہے کہ جونہی کور کمانڈر کا موٹر کیڈ کلفٹن برج پر سے گزرا، اس پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ حملہ آوروں نے دو مختلف سمتوں سے موٹر کیڈ پر فائرنگ کی۔ اس موٹر کیڈ میں گاڑیوں کی تعداد چھ سے سات تھی۔
اس حملے کے فوراً بعد اسی جگہ ایک دھماکہ بھی ہوا جہاں سے کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس دھماکے سے چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے فوراً بعد کراچی میں فوجی ترجمان کرنل محمد ادریس نے بتایا کہ کلفٹن برج پر ایسی چند گاڑیاں جو ڈیوٹی پر تھیں،گولیوں کی زد میں آئیں۔ انہوں نے کہاں کہ کور کمانڈر بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے دفتر میں ہیں۔ کور کمانڈر کی گاڑی اور اس کے پیچھے آنے والی چند دوسری گاڑیاں فائرنگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں۔ لیکن موٹر کیڈ کے پچھلے حصے کی گاڑیاں گولیوں کی زد میں آگئیں۔ ان گاڑیوں پر فائرنگ اتنی شدید تھی کہ ہسپتال میں لائے گئے افراد کے جسموں پر درجنوں کی تعداد میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔ فائرنگ کے بعد اسی مقام پر جہاں سے موٹر کیڈ پر فائرنگ ہوئی تھی موٹر سائیکل میں رکھا ہوا بم دھماکہ سے پھٹ گیا جبکہ ماہرین نے ایک دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا جو بظاہر کلفٹن برج کو دھماکے سے اڑانے کے لئے نصب کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سات زخمیوں کو جناح ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ان زخمیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا جنہیں نیول ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔ فوجی اور پولیس اہلکاروں اور گھات لگا کر حملہ کرنے والوں کے درمیان کئی منٹ تک فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ جمعرات کا واقعہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کراچی میں ہونے والے بم حملوں اور چن چن کر مارنے والے واقعات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||