لاہور چھاؤنی میں پراسرار دھماکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں چھاؤنی کے علاقے میں منگل کی شب ایک پراسرار دھماکہ ہوا جس سے علاقہ کے لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ فوج نے علاقہ کو گھیرے میں لیے رکھا اور پولیس کو دھماکہ کی جگہ کی صفائی کے بعد ہی وہاں جانے کی اجازت دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دھماکہ میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ تاہم پولیس نے اس واقعہ کے بارے میں عجیب رویہ اختیار کیا۔ پولیس افسران خود اخبارات کے دفاتر میں فون کرکے یہ بتاتے رہے کہ یہ دھماکہ فوج کی ایک ریہرسل کے سلسلہ میں کیا گیا تھا اور اس کا مقصد پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی دھماکہ کی صورت میں کارکردگی چیک کرنا تھا۔ تاہم پولیس افسر مسلسل اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ ان کا نام اس خبر میں نہیں آنا چاہیے۔ اس دھماکہ کی اطلاع پولیس کے وائرلیس کنٹرول پر چلی تھی اور پولیس حکام موقع پر پہنچنا شروع ہوگئے تھے لیکن وہاں پر موجود فوجی افسران نے انہیں آگے نہیں جانے دیا۔ وہاں کے ایک مکین نے بتایا کہ دھماکہ سے قبل کوئی چیز اڑتی دیکھی گئی تھی جو کوئی راکٹ لانچر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ چیز ہوا میں ہی پھٹ گئی تھی اور اس کے ٹکڑے پی اے ایف چوک کے نزدیک ایک خالی پلاٹ میں جا کر گرے۔ ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے فوجی حکام کو لوہے کے دو ٹکڑے اٹھاتے دیکھا تھا جو بظاہر راکٹ لانچر کے ہی معلوم ہوتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام طور پر تخریب کاری کے لیے استعمال ہونے والے ٹائم ڈیوائس بموں میں لوہے کا خول نہیں ہوتا۔ جس جگہ پر یہ دھماکہ ہوا وہاں سے کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں ہے جبکہ عیسائیوں کی عبادت گاہ گرجا گھر بھی نزدیک ہی واقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||