BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 January, 2008, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خود کش بمبار کی گرفتاری کا دعویٰ

سندھ پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی
’ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے محرم کے جلوسوں پر حملوں کا منصوبہ بنایا تھا‘
سندھ پولیس نے ایک مبینہ خود کش بمبار سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر عاشورہ کے موقع پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ گرفتاریاں کراچی اور حیدرآباد میں ہوئی۔

سندھ پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعہ کو پولیس اور ایک وفاقی ادارے کے اہلکاروں نے کراچی کی مضافاتی علاقوں میں چھاپے مارکر پانچ ملزمان کو مقابلے کے بعد گرفتاری کیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کے نام سید محمد وسیم عرف عمران، محمد اعجاز عرف عبدالرحمان، جمیل احمد عرف وزیر اکبر، عزیز احمد عرف محمد خان اور محمد حامد عرف قاسم بتائے گئے ہیں۔

ملزمان کا تعلق حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد السلامی اور جیش محمد سے بتایا گیا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ عزیز احمد خودکش حملے کی تیاری کر رہے تھے، ان کا تعلق جیش محمد سے ہے اور وہ لودھران پنجاب کے رہائشی ہیں۔

پولیس نے ملزمان سے خودکش بم حملے میں استعمال ہونے والا چھ کلو بارود، دو کلو بال بیرنگ، ایک کلو کیل، تین دستی بم، تین ڈیٹونیٹر، دو پستول اور پانچ سوگرام سائنائیڈ زہر برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اس سے قبل پولیس فرقہ ورانہ دہشت گردی کی وارداتوں کے لیے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کو ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حرکت المجاہدین اور جیش محمد پر فرقہ ورانہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ جو بھی تنظیمیں تخریبکاری میں ملوث ہیں ان کے آپس میں تعلقات اور روابط ہیں۔

پولیس نے کسی گروہ سے سائنائیڈ زہر بھی پہلی مرتبہ برآمد کیا ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم اگر یہ زہر پانی کی سبیلوں میں ملا دیتے تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوسکتی تھیں۔

اظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نو اور دس محرم کو جلوسوں پر دستی بموں سے حملے کرنے، پاکستان فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور سبیلوں میں زہر ملانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چار ملزمان نے قبائلی علاقے میرعلی میں کیمپ میں تربیت حاصل کی ہے، جبکہ گروہ کے سرغنہ محمد اعجاز عرف عبدالرحمان افغان جہاد کے بعد عسکری تربیت دیتے رہے اور بم بنانے اور خودکش جیکٹ بنانے کےماہر ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد اعجاز کا طالبان رہنما مولوی سردار حقانی سے رابطہ ہے جو جلال الدین حقانی گروپ کے رکن ہیں۔

سندھ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ حیدرآباد سے بھی تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن سے تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے مگر ان سے کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ وہ تخریبکاری میں ملوث رہے ہیں۔

دوسری جانب محرم الحرام کے موقع پر کراچی سمیت سندھ بھر میں فوج کو الرٹ رکھا گیا ہے اور حساس شہروں میں رینجرز گشت کر رہے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی میں پولیس کے ساتھ رینجرز کے بھی دس ہزار جوان تعینات کیے گئے ہیں جبکہ گشت کے لیے اندرون سندھ سے اضافی فورس طلب کی گئی ہے جو قومی شاہراہ اور سپر ہائی وے پر بھی گشت کر رہی ہے۔

دھماکہ خیز مواد کی جانچ پڑتال میں کتوں سے بھی مدد لی جارہی ہے، شہر میں گاڑیوں پر نیلی بتیاں اور سیاہ شیشے لگانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

پشاور دھماکہپشاور دھماکہ
امام بارہ گاہ میں مبینہ خود کش حملہ، تصاویر
امام بارگاہ کی گھڑیرپورٹر کی ڈائری
امام بارگاہ کی گھڑی اور دھماکے کا ٹائم
اسی بارے میں
محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت
10 January, 2008 | پاکستان
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد