BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 January, 2008, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیت اللہ ہی ہمارے امیر: طالبان

بیت اللہ محسود
’چالیس رکنی شوریٰ نے متفقہ طورپر بیت اللہ کو اپنا امیر مقرر کیا‘
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں افغانستان میں طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر نے بیت اللہ محسود کو ان کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ مولوی فقیر کو پاکستان میں عسکریت پسندوں کا امیر مقرر کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان اخباری اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں جس میں بیت اللہ محسود کو ہٹانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر میں جب پاکستان کے سطح پر ’تحریک طالبان پاکستان‘ کی ایک نئی تنظیم کا قیام عمل لایا گیا تو اس وقت بھی بیت اللہ محسود نے اس اسکی سربراہی سے انکار کیا تھا اور تحریک کے سربراہی کے لیے مولوی فضل اللہ اور مولوی فقیر کے نام پیش کیے تھے۔

ترجمان کے بقول بعد میں چالیس رکنی شوریٰ نے جس میں تمام علاقوں کے نمائندگان شامل تھے متفقہ طورپر بیت اللہ کے نام پر اتفاق کیا اور ان کو اپنا امیر مقرر کیا۔

مولوی عمر نے مزید بتایا کہ ’ملا محمد عمر عمومی طورپر طالبان کے امیر المومنین ضرور ہیں لیکن ان کی پاکستان میں لڑنے کی کوئی تشکیل نہیں ہے، یہاں کے طالبان کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ پاکستانی ہیں اور یہ اپنا ’جہاد‘ لڑ رہے ہیں اور دفاع کررہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ بات داد اللہ منصور کے حوالے سے کہی گئی ہو کیونکہ ان کو ملا عمر نے اپنے تنظیم سے نکال دیا ہے اور ان کے حوالے سے میڈیا میں رپورٹیں بھی آئی ہیں۔

پیر کو پاکستان کے متعدد اخبارت میں ہانگ کانگ کے خبررساں ادارے ایشیاء ٹائمز آن لائن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر نے تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر بیت اللہ محسود کو ان کے عہدے سے ہٹا کران کی جگہ باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے کمانڈر مولوی فقیر کو مقرر کیا ہے۔

رپورٹ میں بیت اللہ محسود کو ہٹانے کی وجہ بتائی گئی کہ انہوں نے افغانستان میں نیٹو فورسز کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا کر قبائلی علاقوں میں پاکستان کی فورسز پر مرکوز کردی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مولوی فقیر نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

امام بارگاہ حملہخودکش فرقہ واریت
’طالبان اور فرقہ واریت کا خطرناک گٹھ جوڑ‘
طالبان(فائل فوٹو)طالبان نڈر ہوگئے
پہلے فوجیوں کا اغواء اب سکاؤٹ قلعہ پر دھاوا
مقامی طالبانآدم خیل کے’طالبان‘
بی بی سی نمائندے کے درہ آدم خیل میں کیا دیکھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد