BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 January, 2008, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوکی پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

مقامی طالبان(فائل فوٹو)
مقامی طالبان نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کر کے تین اہلکاروں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کردیا ہے۔

ادھر شورش زدہ ضلع سوات میں مقامی عسکریت پسندوں نے مبینہ طورپر امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک پولیس اہلکار کوگلا کاٹ کر ہلاک کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے اور
حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔

اورکزئی ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات نو بجے کے قریب اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام غلجو میں پیش آیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں غلجو بازار کے قریب واقع لیوی کی ایک چیک پوسٹ پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے وہاں موجود تین لیوی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کا تعلق علی خیل، ربیعہ خیل اور ملاخیل قبیلوں سے بتایا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا کہ چند دن قبل مقامی عسکریت پسندوں نے علاقے میں تعینات تمام لیوی اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ سرکاری نوکری چھوڑ کر اسلحہ مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیں۔

 اورکزئی ایجنسی کی پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد نہ ملنے کی وجہ سے عام طورپر یہ ایک پرامن علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم لیوی پوسٹ پر حالیہ حملہ علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے

مقامی لوگوں کے مطابق صدر مقام غلجو میں تعینات پولیٹکل تحصیلدار اور ان کا عملہ دو دن پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی کی پڑوسی ملک افغانستان سے سرحد نہ ملنے کی وجہ سے عام طورپر یہ ایک پرامن علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم لیوی پوسٹ پر حالیہ حملہ علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلہ واقعہ ہے۔

اس سے پہلے بھی علاقے میں عسکریت پسندوں کے سرگرمیوں کی اطلاعات ملتی رہی ہیں تاہم جب سے عسکریت پسندوں نے پاکستان کی سطح پر تنظیم بنانے کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے ملک کے تمام قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں کھول کر سامنے آئی ہیں۔

ادھر صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات سے اطلاعات میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گلی باغ کے علاقے سے ایک پولیس اہلکار کی لاش ملی ہے جس کو گلہ کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا ہے کہ دشمنوں کےلیے جو جاسوسی کرے گا اس کا یہی انجام ہوگا۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ مقتول میاں قیوم شاہ ایک پولیس اہلکار تھا جو ان کے مطابق امریکہ کےلیے مبینہ طورپر جاسوسی کرنے میں ملوث تھا۔

ایک نامعلوم شدت پسندپشاور: 40 کلومیٹر
لڑائی بارڈر سے چلی اور پشاور کے پاس پہنچ گئی
مشرف اور سکیورٹی
شدت پسندی کی سیاسی مقابلے کا امکان
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد