تربیلاحملہ: 16 ہلاکتیں، تحقیقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات تربیلا غازی کے مقام پر فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کی کنٹین میں ہونے والا دھماکہ بظاہر خودکش حملہ معلوم ہو رہا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی دھماکے کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں سولہ فوجی ہلاک جبکہ انتیس زخمی ہوئے ہیں اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔انکے بقول زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں مختلف فوجی ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونیوالوں کا تعلق فوج کے سپیشل سروسز گروپ سے ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعہ کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم ابتدائی طور پر یہ شک کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان فوجیوں نے لال مسجد کے خلاف ہونے والے آپریشن میں حصہ لیا تھا تو میجر جنرل وحید ارشد نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ’ خواہ مخواہ‘ اس سے لال مسجد کے آپریشن کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔
ادھر تربیلا غازی سے متصل ضلع صوابی میں اطلاعات کے مطابق حکام نے تین بھائیوں کواس دھماکے کے شبہہ میں مبینہ طور پر گرفتار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوج اور پولیس کے اہلکاروں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ایک بجے ضلع صوابی کی تحصیل ٹوپی کے حیدر نامی کالونی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا اور تین بھائیوں سلیم، عارف اور امیر محمد کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق امیر محمد نامی فوج سے بطور سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد تربیلا غازی میں واپڈا کالونی میں ڈھائی مہینے قبل سکیورٹی گارڈ بھر تی ہوئے تھے اور وہ آجکل چھٹیوں کے سلسلے میں اپنے گھر آئے تھے جبکہ انکے دو بھائیوں میں سے سلیم سبزی فروش اور عارف کا کریانہ سٹور ہے۔ تحصیل ٹوپی میں ایک پولیس آفسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس واقعہ کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ فوج اور پولیس کے مشترکہ چھاپے کے دوران صرف امیر محمد نامی شخص کو مبینہ طورگرفتار کیا گیا ہے۔ جمعرات کی رات کو ہونے والا دھماکہ صوبہ سرحد کے تحصیل غازی کے صدر مقام غازی سے تقریباً تین کلومیٹر دور تربیلا ڈیم کی ملازمین کے لیے بنائی گئی واپڈا کالونی میں واقع پی ایف ایل نامی کالونی میں ہوا تھا جو فوجیوں کے لیے مخصوص ہے۔ کالونی سے آدھ کلومیٹر پر واقع پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او زاہد خان نے بی بی سی کوبتایا کہ پی ایف کالونی میں واقع فوجی کنٹین کے دو داخلی راستے ہیں جن پر چوبیس گھنٹے فوجی تعینات ہوتے ہیں اور وہاں پر سویلین کا داخلہ ناممکن ہوتا ہے۔ تاہم ایس ایچ او کے بقول فوجیوں کی رہائشی کالونی میں سویلین کا آنا جانا زیادہ مشکل نہیں ہے لیکن پھر بھی وہاں داخل ہونے کے لیے متعلقہ شخص سے اجازت لینے کے بعد ایک پاس جاری ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جمعرات کی رات ہونے والے دھماکے کے فوراً بعد وہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے تھے مگر انہیں گیٹ پر ہی روک کر اندر جانے نہیں دیا گیا۔ ہری پور سے سرحد اسمبلی کے رکن فیصل زمان نے جمعرات کی رات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تربیلا میں ہونیوالا بم دھماکہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ فوجی کالونی پی ایف ایل میں شام ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ’خودکش حملہ آور‘ میس کے اندر داخل ہوا اور اپنے جسم سے باندھے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا۔ فیصل زمان کے بقول ہلاک ہونے والے تمام فوجی ایس ایس جی کے اہلکار ہیں اور ان کا تعلق کرار کمپنی سے تھا۔ اس واقعہ سے چند روز قبل راولپنڈی میں ایک بس میں ہونیوالے دھماکے سے پندرہ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والی بس فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلیجنس) کے اہلکاروں کو دفتر لارہی تھی۔ |
اسی بارے میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک13 September, 2007 | پاکستان دس حملہ آور ہلاک، فوجی زخمی09 September, 2007 | پاکستان باجوڑ میں لیویز کی چوکی پر حملہ08 September, 2007 | پاکستان القاعدہ پاکستان میں موجود: مشرف07 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||