BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 05:51 GMT 10:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کا جانی نقصان: حکومتی دعویٰ

وزیرستان، فوج (فائل فوٹو)
سینکڑوں فوجی محسود علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں
پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں کم سے کم 40 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 30 کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

فوج کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آرٹیلری اور ہیلی کاپٹروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کی جانے والی کارروائی کے دوران آٹھ فوجی ہلاک جبکہ دیگر 30 زخمی ہوگئے ہیں۔ فوج کے مطابق یہ ہلاکتیں بدھ کی شب اور جمعرات کی صبح ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس تازہ لڑائی کے دوران شدت پسندوں نے جوابی کارروائی میں راکٹوں کا استعمال کیا ہے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ مقامی باشندے اپنے گھروں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں فوج کی کارروائی میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے چالیس جنگجوؤں کی ہلاکتیں ہلاکتیں مکین اور سپینکئ راغزائی کے مقام پر ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق سپینکئی راغزائی کے مقام پر فوج کے ایک اہلکار ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔ سپنکئ راغزائی اور مکین کے علاقے نواز کوٹ سے مقا می طالبان کو نکال دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بلوچ ریجمنٹ کے چھ سو جوان سپینکئی راغزائی اور قریبی پہاڑی سلسلوں میں طالبان کے ٹھکانوں تک پہنچ گئے ہیں اور رزمک کے علاقے سے روانہ ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی مکین کے علاقے نواز کوٹ پہنچ گئے ہیں۔اور وانا کی جانب سے پیش قدمی کرنے والے اہلکار تیارزہ کے علاقے توروام پہنچ گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر فوج پہنچ گئی ہے قیکن قریبی پہاڑی سلسلوں مقامی طالبان کی جانب سے مزاحمت بھی بدستور جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنڈولہ، وانا اور منزئی کے علاقے سے محسود پر گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے اور محسود کے علاقے سے ملنے والے تمام راستے بدستور بند ہیں اور علاقے میں دو ہزار کے قریب ٹیلی فون لائن بھی خاموش ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کارروائی اس وقت تک جاری رہےگی جب تک جنگجوؤں کے تمام ٹھکانوں کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ محسود علاقے میں فوجی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ جن تین مقامات پر فوج نے کنٹرول سھنبال لیا ہے ان علاقوں کو فوج نے اس وقت خالی کر دیا تھا جب سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کی رہائی کا فیصلہ ہوا تھا۔ دو ہزار سات میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کو جنوبی وزیرستان سے اغواء کیا تھا۔

اسی بارے میں
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
حکومت حامی سرداروں پر حملہ
09 November, 2007 | پاکستان
قافلے پر حملے، چھ فوجی ہلاک
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد