عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | افغانستان کے طالبان نے پہلی مرتبہ پاکستان کے طالبان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے |
افغانستان کے طالبان نے پہلی مرتبہ پاکستان کے طالبان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا پاکستان میں جاری کارروائیوں سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی وہ پاکستانی طالبان کی تنظیم سازی میں کوئی عمل دخل رکھتے ہیں۔ افغانستان میں خود کو طالبان تحریک کے ترجمان کہلوانے والے قاری یوسف نے ایک نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی اردو کو بتایاکہ ملاعمر کی جانب سے بیت اللہ محسود کو اپنے عہدے سے ہٹائے جانےسے متعلق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب تک عام تاثر یہ تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے طالبان ایک ہی تحریک کے دو حصے ہیں لیکن اس تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیمی اور عملی اعتبار سے دونوں الگ الگ متحرک ہیں۔ تاہم دونوں کا اعتراف ہے کہ ان کے مقاصد اور اہداف ایک ہی ہیں یعنی اسلامی ریاست کا قیام۔ ان کے مطابق ’امیرالمومنین ملاعمر کا بیت اللہ محسود اور پاکستان کے طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہماراجھگڑہ افغانستان میں ہے جہاں پر ہمارے لیے بہت زیادہ کام پڑا ہے‘۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کے قبائلی علاقوں سے اب بھی طالبان جنگجو افغان طالبان کے ہمراہ لڑنے کے لیےافغانستان آتے ہیں تو انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا البتہ کہا کہ وہ ماضی میں آتے جاتے رہے ہیں۔
 | پاکستانی طالبان کی مدد نہیں کر رہے  افغان طالبان پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسر پیکار طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ان کا اس قسم کا کوئی ارادہ ہے  قاری یوسف |
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسر پیکار طالبان کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ان کا اس قسم کا کوئی ارادہ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستانی اور افغان طالبان کا آپس میں رابطہ کیا اب مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے تو قاری یوسف کا کہنا تھا ’نہیں ہمارا ان کے ساتھ نظریاتی تعلق ضرور ہے مگران کے ہمراہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنا ہم پاکستان کی معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں‘۔ اس سے قبل بیت اللہ محسود کی سربراہی میں قائم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بھی بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ان خبروں کی سختی سے تردید کی تھی کہ افغانستان میں طالبان کے امیر المومنین ملا محمد عمر نے بیت اللہ محسود کو ان کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ مولوی فقیر کو پاکستان میں عسکریت پسندوں کا امیر مقرر کیا ہے۔ ادھر، تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے طالبان کا پاکستانی تحریک میں کوئی تنظیمی عمل دخل نہیں ہے۔ بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملا محمد عمر ان کے مشترکہ رہنما ضرور ہیں لیکن ان کا تنظیمی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
 | طالبان حکومت سے بات کر سکتے ہیں  جنوبی وزیرستان میں جنگی حالات میں امن مداکرات نہیں ہوسکتے لہذا دیگر علاقوں کے طالبان رہنما جن میں باجوڑ کے مولانا فقیر محمد شامل ہیں حکومت سے بات چیت کر سکتے ہیں  مولوی عمر |
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چونکہ جنوبی وزیرستان میں جنگی حالات میں امن مداکرات نہیں ہوسکتے لہذا دیگر علاقوں کے طالبان رہنما جن میں باجوڑ کے مولانا فقیر محمد شامل ہیں حکومت سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان کے طالبان بیت اللہ محسود اور پاکستانی طالبان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ اس سے قبل قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان کے تنظیمی معاملات کے اہم فیصلے افغانستان میں طالبان کی سپریم کونسل کرتی تھی اور اس سلسلے میں پچھلے سال مولاناسراج الحق حقانی کو قبائلی علاقوں کا سربراہ نامزد کرنے کی اطلاعات بھی آئی تھیں۔ |