کوہاٹ ٹنل اور طالبان کی رفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس جون سنہ دو ہزار تین کو صدر پر ویز مشرف نے پانچ ارب روپے کی لاگت سے جاپان کے تعاون سے تعمیر شدہ’ کوہاٹ ٹنل‘ کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ ’ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں طالبان والا اسلام چاہیے یا ایک مہذب اسلام‘ اور صدر صاحب کے ان کلمات کی ادائیگی کے تقریباً ساڑھے چار سال بعد یہ سرنگ درہ آدم خیل کے طالبان کے قبضہ میں چلی گئی۔ جس وقت صدر مشرف سرنگ کا افتتاح کر رہے تھے تو اس وقت چار کلومیٹر دور واقع درہ آدم خیل میں طالبان کا نام و نشان نہیں تھا۔ پاکستان اور جاپان کے انجینئروں نے مشترکہ کوششوں سے جس سرنگ کی تعمیر میں چار سال لگائے وہ چند ہی گھنٹوں میں طالبان کے کنٹرول میں آ گئی۔ انہوں نے سرنگ کے اندر ایک طالب کمانڈر کے بقول خفیہ ایجنسی سے چھینی گئی گاڑی کو بارود سے بھر کر اڑادیا۔طالبان نے قریب ہی بنائے گئے اس کمپیوٹرائزڈ کنٹرول روم کوبھی تباہ کردیا ہے جہاں سے سرنگ میں نصب سولہ کلوز سرکٹ کیمروں اور مانیٹرز کے ذریعے پہاڑ کے اندر جانے والی گاڑیوں کی آمدورفت کا جائزہ لیا جا تا تھا۔ سرنگ کی تکمیل کے وقت جاپانی پروجیکٹ منیجر یوشیو نے کہا تھا کہ ’اسے دنیا کی ان چند سرنگوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کی تعمیر کے دوران مزدوروں اور دوسرے تعمیراتی کارکنوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکنہ انتظامات کیے گئے تھے اور کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اگرچہ اس میں پہاڑوں کی کھدائی اور کٹائی جیسے کام بھی شامل تھے جن میں اس طرح کے خطرات درپیش آتے ہیں‘۔ لیکن چار سال تک جس پہاڑ کو کاٹتے کاٹتے کوئی بھی موت واقع نہیں ہوئی تھی آج اس پر قبضہ کرنے کے نتیجے میں سات فوجی ہلاک اور پندرہ یرغمال بنائے گئے جن میں سے بعد میں طالبان نے فائرنگ کرکے پانچ کو مارنے کا دعویٰ بھی کیا۔ سرنگ کو جب روزانہ چھ ہزار گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھولا گیا تھا تو اسکا نام ’دوستی ٹنل‘ رکھا گیا جب کہ آج یہ مسلح طالبان اور پاکستانی فوج کے درمیان جاری رہنے والےجھگڑے میں بظاہر’دشمنی ٹنل‘ میں بدل چکی ہے۔ |
اسی بارے میں کوہاٹ سرنگ کی متبادل سڑک پر غور27 January, 2008 | پاکستان جھڑپوں میں کمی، طالبان کی’پسپائی‘ 28 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل کا آنکھوں دیکھا حال27 January, 2008 | پاکستان چوکی پر حملہ، تین اہلکار ہلاک27 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||