عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | طالبان کے لہجے میں پہلی مرتبہ تبدیلی آئی ہے |
طالبان کی جانب سے اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کی جیت کا خیرمقدم کرنا اس لحاظ سے ایک حیران کن اور غیرمتوقع اقدام ہے کہ بندوق کی زبان سے بات کرنے والے سخت گیر اسلامی شدت پسند بظاہر اعتدال پسند پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن ) کو بلاواسطہ مبارکباد دے رہے ہیں۔ طالبان کا یہ ردعمل صدر مشرف، ان کے حواری سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قائداعظم اور بالخصوص مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی شکست پر خوشی کا اظہار بھی ہے۔ طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتائج کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان تشکیل پانے والی مخلوط حکومت نے امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے آئندہ کے کردار کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں ہونے والے تمام فیصلے ایک فرد کی ذات سے منتخب پارلیمنٹ کو منتقل ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں امریکی سفیر اور بعض دیگر اہلکاروں کی جانب سے سیاسی جماعتوں کےساتھ کثرت سے ہونے والی ملاقاتیں اس تشویش کی بھرپور عکاسی کررہی ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ حکومت کے قیام سے قبل ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے آئندہ حکومت کی پالیسیوں کو کوئی حتمی شکل دیا جاسکے۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں شدت پسندی سے نمٹنے کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اب تک محتاط اور سیاسی لب ولہجہ اپنایا ہوا ہے۔ اے این پی کے قائدین نے تو ’دہشت گردی کیخلاف جنگ، کے منفی معنوں سے بچنے کے لیے اسکے لیے ’تشدد کے خاتمہ، کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف طالبان نے بھی پہلی مرتبہ نرم اور مصالحانہ لہجہ میں بات کی ہےحالانکہ گزشتہ چند سالوں سے یہ دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی فوج اور طالبان نے جب کھبی بھی کوئی بیان جاری کیا ہے تو اس میں دونوں جانب سے’ عسکری لب و لہجہ ، نمایاں نظر آیا ہے۔ اگرچہ منتخب ہونے والی آئندہ حکومت میں شامل جماعتوں اور طالبان کے لب ولہجہ میں مصالحانہ رنگ کےشامل ہونے سے صورتحال میں بہتری کے حوالے سے تھوڑی سی امید بندھ چلی ہے لیکن اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ حکومت پاکستانی فوج کو اپنی پالیسیوں کے تابع کرسکی گی کہ نہیں۔ |