BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 05:35 GMT 10:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلکاروں کی ہلاکت پر طالبان وضاحت

طالبان (فائل فوٹو)
مقامی طالبان نے کہا کہ پہلے ان پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے جوابی حملہ کیا۔
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان کی طرف سے ایک ہفتہ قبل ہلاک کیے جانے والے تین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعہ پر عسکریت پسندوں نے معذرت کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف قبائلی جرگے نے اہلکاروں کی ہلاکت پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکل جانے کا کہا ہے۔ جرگے کے بارے میں طالبان کا مؤقف جاننے کے لیے ان کے ترجمان سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔

اورکزئی ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کو اپر اورکزئی ایجنسی کے علاقے ڈبوری میں اورکزئی کے تقریباً چودہ قبیلوں کا ایک مشترکہ جرگہ منعقد ہوا جس میں ہزاروں کے تعداد میں مسلح قبائل نے شرکت کی۔

’ہم امن چاہتے ہیں‘
 جرگہ نے ’اسلام زونہ‘ میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی ہے جس کے تحت ایجنسی میں آباد قبائل ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑیں گے بلکہ عسکریت پسندوں کے خلاف ان کا اتحاد برقرار رہےگا۔ ہم کسی کو اورکزئی ایجنسی کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، نہ ہم شدت پسندوں کو یہاں رہنے کی اجازت دینگے اور نہ ہمیں یہ منظور ہیں کہ فوج علاقے میں آ کر کسی کے خلاف کارروائی کرے اور اس طرح ہمارا حال بھی دیگر ایجنسیوں کی طرح ہوجائے
ملک ذلمن شاہ
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جرگہ میں مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے مشران نے ایک ہفتہ قبل اپراورکزئی ایجنسی کے صدور مقام غلجو میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں تین لیوی اہلکاروں کی ہلاکت پر غور کیا گیا۔

ربیعہ خیل قبیلے کے سربراہ ملک ذلمن شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ نے ’اسلام زونہ‘ میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی ہے جس کے تحت ایجنسی میں آباد قبائل ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑیں گے بلکہ عسکریت پسندوں کے خلاف ان کا اتحاد برقرار رہےگا۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہم کسی کو اورکزئی ایجنسی کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، نہ ہم شدت پسندوں کو یہاں رہنے کی اجازت دینگے اور نہ ہمیں یہ منظور ہیں کہ فوج علاقے میں آ کر کسی کے خلاف کارروائی کرے اور اس طرح ہمارا حال بھی دیگر ایجنسیوں کی طرح ہوجائے‘۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جرگہ میں مقامی طالبان نے بھی شرکت کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کو اس جرگہ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود تقریباً تیرہ گاڑیوں میں سوار سو کے قریب مسلح طالبان اچانک وہاں پہنچے اور جرگہ میں شامل ہوگئے۔

جرگہ میں شامل قبائیلیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان نے مشران کو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر اپنی صفائی پیش کی اور کہا کہ پہلے ان پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد ان کی طرف سے جوابی حملہ کیا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے واقعہ پر ’معافی‘ مانگی اور جرگے کو یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں علاقے کے رواج کے مطابق ہر قسم کے بات چیت کےلیے تیار ہیں۔ جرگہ اب پیر کو ہوگا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد غلجو سے زیادہ تر لوگوں نے خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

اورکزئی ایجنسی سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سنیٹر میاں محمد حسین کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی کی آڑ میں فوج علاقے میں داخل ہوگئی تو اس سے ایجنسی کے حالات مزید خراب ہو جائینگے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل اورکزئی ایجنسی کے علاقے غلجو میں مقامی عسکریت پسندوں نے رات کے وقت لیوی کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے تین لیوی اہلکاروں کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کردیا تھا۔ مقامی طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

اس واقعہ کے دو دن بعد اورکزئی قبائل نے شدت پسندوں کے خلاف لشکر کشی کا اعلان کیا تھا۔ اورکزئی ایجنسی دیگر چھ قبائلی ایجنیسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ پرامن علاقہ تصور کیا جاتاہے۔ یہ واحد ایجنسی ہے جس کی سرحدیں پڑوسی ملک افغانستان سے نہیں ملتی۔

اسی بارے میں
تیرہ فوجیوں کی لاشیں برآمد
30 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد