تیرہ فوجیوں کی لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اسے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے ان تیرہ فوجیوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں طالبان نے گزشتہ جمعہ کو ایک حملے کے دوران یرغمال بنایا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان تیرہ فوجیوں کی لاشیں بدھ کی صبح درہ آدم خیل سے چند کلومیٹر دور کوئی وال کے علاقے سے ملی ہیں۔انکے بقول درہ آدم خیل کے ایک قبائلی جرگے نے کوئی وال کے پہاڑ پر جاکر ان فوجیوں کی لاشیں بر آمد کیں۔ ایک سرکاری اہلکار نےنام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان فوجیوں کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے تھا جن میں سفید وردیوں میں ملبوس ٹیکنکل سٹاف کے تین اہلکار بھی شامل ہیں۔ قبائلی مشران میں سے ایک نے جو لاشوں کی برآمد گی کے لیے تشکیل دیئے گئے مشران میں شامل تھے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پر پہنچھے تو طالبان اپنا مرکز چھوڑ کر فرار ہوچکے تھے جبکہ انہیں ایک کھائی میں تیرہ فوجیوں کی لاشیں ملیں۔ ان کے بقول تمام فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جبکہ لاشوں کی حالت سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ شاید انہیں تین دن قبل ماردیا گیا ہو۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے دس فوجی کیموفلاج جبکہ تین سفید وردیوں میں ملبوس تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق گزشتہ سنیچر کو جب انکی طالبان کے ہمراہ ان مغوی فوجیوں کیساتھ ملاقات ہوئی تھی تو اس وقت انکے ہاتھ پاؤں بندھے تھے۔ ان فوجیوں میں سے بعض شدید زخمی تھے اور سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔ مغوی اہلکاروں نے انہیں بتایا تھا کہ اگرانہیں رہائی ملی تو وہ فوج کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیں گے۔
انٹرویو کےدوران جب وہ بظاہر طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جہاد کے ’حق، اور فوج کے خلاف‘ نفرت کا اظہار کر رہے تھے تو وہاں پر موجود طالب کمانڈر ہوا میں ہاتھ لہرا لہرا کر انہیں داد دیتے رہے ۔ ملاقات کے دوران جب فوجیوں کو ایک مقفل کمرے سے باہر نکالا گیا تو انکی تعداد تیرہ تھی جن میں سے تین سفید وردیوں میں ملبوس تھے مگر تھوڑی ہی دیر بعد وہاں پر موجود مسلح طالبان نے ان تین اہلکاروں کو مغوی فوجیوں کے گروپ سے علیحدہ کرکے کہا کہ یہ ان میں شامل نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل میں اغواء ہونے والے اسلحے سے بھرے چار سرکاری ٹرکوں کی بازیابی کے لیے طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا اور پہلے روز کی لڑائی میں فوج نے پچیس سے تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ طالبان نےاس بات کو رد کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کوہاٹ ٹنل کے اوپر واقع ایک فوجی چوکی پر حملہ کرکےسات فوجیوں کو ہلاک اور دس کو یرغمال بنایا ہے۔ اس واقعہ کے بعد طالبان نے کوہاٹ ٹنل پر قبضہ کرکے صوبہ سرحد کا رابطہ انڈس ہائی وے کے ذریعے جنوبی اضلاع اور صوبہ سندھ اور بلوچستان سے منقطع کردیا۔انہوں نے ٹنل کے اندر بارود سے بھری ایک گاڑی اڑادی جس سے سرنگ کے اندرونی حصہ کو نقصان پہنچا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پہاڑوں میں موجود طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر تین دن تک بمباری جاری رکھی اور بالاخر کوہاٹ سرنگ کا قبضہ واپس لے لیا جبکہ طالبان درہ آدم خیل چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف نکل گئے۔ دوسری طرف کوہاٹ سرنگ کے قریب واقع شیرکو، گستی خیل اور پیوال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاوڈ سپیکروں کے ذریعے انہیں گھر وں تک محدود رہنے کا کہا ہے۔ آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان پشاور کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ درہ آدم خیل میں بازار،سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے بدھ کو ساتویں روز بھی بند رہے۔ | اسی بارے میں ’درے سے شدت پسندوں کا صفایا‘29 January, 2008 | پاکستان کوہاٹ ٹنل اور طالبان کی رفتار 28 January, 2008 | پاکستان طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان فوج دوسرا قلعہ بھی چھوڑگئی: طالبان17 January, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان ’طالبان اور فرقہ واریت کا گٹھ جوڑ‘20 January, 2008 | پاکستان ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||