’درے سے شدت پسندوں کا صفایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں پانچ دن کی لڑائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے تمام علاقے کا کنٹرول حاصل کر کے شدت پسندوں سے علاقے کو صاف کر دیا ہے۔ دوسری طرف مقامی شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ان کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ’ فوجی حکام کے مطابق درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز نے سپینہ تھانہ سے لیکر کوہاٹ ٹنل تک تمام علاقے کو صاف کرنے کے بعد لوگوں کی آمدو رفت کے لیے محفوظ بنا دیا ہے۔ ایک اعلی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی جوانوں نے بعض پہاڑی علاقوں میں مورچے بھی قائم کر لیے ہیں۔ تاہم طالبان کی پسپائی کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود انڈس ہائی وے پر معمول کی ٹریفک بحال نہیں ہو سکی ہے اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈس ہائی وے ایک دو دن میں عام ٹریفک کے لیے کھول دی جائےگی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج اور فرنٹیر کور کے ایک قافلے نے منگل کی صبح انڈس ہائی وے پر سپینہ تھانہ سے لیکر کوہاٹ ٹنل تک سخت سکیورٹی میں گشت کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گشت کے دوران تمام علاقے کو مکمل طور پر سیل کیا گیا تھا جبکہ مرکزی سڑک پر کرفیو بھی نافذ تھا۔مقامی باشندوں کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار انڈس ہائی وے پر گشت کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے صرف چالیس کلو میٹر کے فاصلہ پر کوہاٹ ٹنل پر پانچ دن قبل طالبان نے قبضہ کر لیا تھا اور انڈس ہائی وے پر ہر قسم کی ٹریفک بند ہو گئی تھی۔ تاہم اتوار کو سکیورٹی فورسز نے ٹنل پر طالبان کا قبضہ چھڑانے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور طالبان کے ساتھ شروع ہونے والی لڑائی گزشتہ روز تک جاری رہی تھی۔ درہ آدم خیل اور اس کے گردو نواح میں منگل کو بھی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر پرواز کرتے رہے تاہم کسی بھی علاقے سے سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان فائرنگ کی اطلاع نہیں ملی۔ ادھر تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے فون کرکے بی بی سی ڈاٹ کام کو بتایا کہ طالبان نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر لی ہے اور وہ براہ راست لڑائی کی بجائے سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ’طالبان نے فیصلہ کیا ہے کہ کوہاٹ ٹنل کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ قومی اثاثہ ہے اور طالبان نے قومی اثاثوں کو نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے‘۔ | اسی بارے میں کوہاٹ سرنگ کی متبادل سڑک پر غور27 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل آپریشن، ہلاکتوں کے متضاد دعوے27 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل کا آنکھوں دیکھا حال27 January, 2008 | پاکستان فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ،حکومت کی تردید26 January, 2008 | پاکستان طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان فوج دوسرا قلعہ بھی چھوڑگئی: طالبان17 January, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||