شدت پسندوں کو سب کچھ پہلے کیسے پتہ ہوتا ہے ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹمپل روڈ میں ایف آئی اے کے دفتر میں ہونے والے دھماکے لاہور کی تاریخ کے سب سے زور دار بم دھماکے قرار دئیے گئے ہیں اور ماہرین ان کاموازنہ عراق میں ہونے والے کار بم دھماکوں سے کر رہے ہیں۔ میں لاہورکے ایک دو نہیں درجنوں بم دھماکوں کی کوریج کرچکا ہوں۔ چیختے چلاتے زخموں سے کراہتے ہوئے لوگ، کٹے پھٹے انسانی اعضاء، سڑک پر بہتا ہوا خون، جلے ہوئے جسموں کی فضا میں رچی ہوئی بو، ٹوٹے جوتے، سائرن بجاتی ایمبولینسیں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا ہجوم ،دھکے دیتے پولیس اہلکاراور ان کے حواس باختہ آفیسر ۔۔۔۔
تقریبا تمام ہلاکت خیز دھماکوں میں یہ سب کچھ دیکھنے اور تکلیف دہ حد تک محسوس کرنے کو ملتا ہے لیکن منگل کو ہونے والا دھماکہ ماضی کے برعکس ہے اور یہ فرق تباہی کے دائرہ کار کا ہے۔ کوئی ذرا ٹمپل روڈ کے اس دفتر کے باہر جاکر دیکھے تو سہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کھنڈرات میں آگئے ہیں۔صرف ایف آئی اےکی عمارت ہی نہیں ارد گرد کے آٹھ دس مکان اس طرح تباہ ہوئے ہیں جیسے ان پر راکٹوں کی بارش کی گئی ہو۔ دوسرے اورتیسرے دھماکے کا خوف دل میں لیے میں جب ریگل چوک کے راستے ٹمپل روڈ تک پہنچا تو دھماکے سے کوئی ایک دو کلومیٹر دور سے ہی اس کے اثرات دکھائی دینے لگے۔ حیران اور خوفزدہ لوگوں کا جم غیفر ایک کلومیٹر دور سے نظر آنے لگا۔ سینٹ انتھونی سکول کے سامنے ایک عورت کو اپنے بچےکو گلے لگا کر روتے دیکھا ۔
سب سے پہلے نقی مارکیٹ کے ٹوٹے شیشے نظر آئے اور پھر صادق پلازہ کے سامنے شیشوں کا انبار لگا تھا۔ کار کے ٹائر تلے شیشوں کی کرچیوں کی چرمراہٹ کی آوازیں میرے لیے نئی تھی۔ لوگ اپنے موبائل فون کے کیمروں سے عمارت کی تصویریں بنا رہے تھے۔ جو لوگ لاہور کو جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ نقی مارکیٹ اور ایف آئی کی بلڈنگ میں کم از کم آدھ کلومیٹر کی دوری ضرور ہے۔ اتنے خوفناک دھماکوں کے لیے کس قدر بارود استعمال کیا گیا اس کا جواب تلاش کرنا بم ڈسپوزل کے ماہرین کے لیے شائدآسان نہیں تھا کیونکہ انہوں نے اس سے پہلے اتنے بڑے دھماکے کی تفتیش ہی نہیں کی ہے۔ البتہ ایک پولیس افسر اور بم ڈسپوزل کے اہلکار کے درمیان ہونے والی گفتگو سے میں نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دھماکہ کم از کم ڈیڑھ من وزنی بارود کا ہے۔ اتنا زیادہ دھماکہ خیز مواد کس طرح لاہور کے پُررونق علاقےمیں پہنچا اور حملہ آور کس طرح گاڑی کو ایک ایسی عمارت کے اندر لے جانے میں کامیاب ہوا جس کے سامنے اس کے اہلکار کسی عام شہری کو گاڑی کھڑی نہیں کرنے دیتے؟ یہ ایک انتہائی حیرت انگیز بات ہے لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والا دھماکہ بھی اتنے ہی بارود سے ہوا تھا۔ اس دھماکےسے ہلاکت خیزی اتنی زیادہ نہیں ہوئی اس لیے میڈیا نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی لیکن اس دھماکے کی طاقت بھی ایف آئی اے والے دھماکے جتنی ہی تھی بلکہ شاید زیادہ۔
ماڈل ٹاؤن کی اس چھ کنال کی کوٹھی کے لان میں کم از کم پانچ فٹ گہرا گڑھا پڑا ہے۔ یعنی ایک عام آدمی اس میں کھڑا ہو تو گردن تک زمین کے اندر ہوگا۔ پاکستان میں ہونے والی تخریب کاری اور بم دھماکے میں اتنا بڑا گڑھا کم از کم میں نے دیکھا نہ اس کے بارے میں کسی سے سنا۔ آخر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کےدفتر پر اتنا خوفناک دھماکہ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟کئی لوگوں کی طرح میرے لیے بھی یہ بڑا اہم سوال تھا۔پھر گاڑی، گھر میں داخل ہونے کے بعد سیدھی سرونٹ کواٹر کی طرف کیوں گئی اور مرکزی عمارت کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ یہ ضمنی سوال بھی کم اہم نہیں۔ پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ بائیں جانب ایک ایس پی کا گھر ہے اور دائیں جانب کسی عام شہری کی رہائش گاہ ہے لیکن ان دونوں گھروں میں خود کش کار سوار براہ راست حملہ کرسکتا تھا اس کے لیے اس بے ضرر کوٹھی کے اندرجانےکی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ماڈل ٹاؤن میں ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرونٹ کواٹر کے پیچھے جو عمارت ہے وہ ایک ایسی خفیہ ایجنسی کا پوشیدہ ڈیرہ تھا جو نہ صرف لاہور بلکہ ملک بھر میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش کررہی ہے۔
ٹمپل روڈ پر ایف آئی اے کی عمارت کی تیسری منزل بھی ایک سپیشل انوسٹی گیشن گروپ کے زیراستعمال ہے جس میں پولیس ،ایف آئی اے اور فوج کے اہلکار ملک بھر میں ہونے والے دھماکوں کی تفتیش کرتے ہیں۔ ان دونوں دھماکوں میں بارود کی طاقت اورحملے کا انداز ایک سا ہونے کے علاوہ بڑی مماثلت یہ ہے کہ ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو بظاہرتخریب کاری کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے استعمال ہورہےہیں۔ پولیس اور محکمۂ داخلہ کے افسران یہ بات تو کہتے ہیں کہ دھماکے سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے ان حملوں کے سلسلے کی کڑی ہیں جن میں گذشتہ ایک برس سے شدت آچکی ہے۔ لیکن اس بات کا جواب کوئی نہیں دیتا کہ حملہ آوروں تک سیکیورٹی فورسز کے بارے میں اتنی خفیہ معلومات کیسے پہنچ جاتی ہیں جنہیں انتہائی راز میں رکھاجاتا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ راولپنڈی کے رہائشیوں اور سرگودھا میں ساری زندگی گذار دینے والے لاکھوں افراد کو یہ علم نہیں تھا کہ کن بسوں میں آئی ایس آئی یا پاک فضائیہ کے کیڈٹ سفر کرتے ہیں لیکن شدت پسندوں کو نہ صرف علم تھا بلکہ انہوں نے ان پر خونی حملے بھی کیے۔ | اسی بارے میں مجوزہ پولنگ سٹیشنوں پر دھماکے16 February, 2008 | پاکستان سوات:دھماکہ میں 1 ہلاک،کئی زخمی16 February, 2008 | پاکستان سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک22 February, 2008 | پاکستان این جی او دفتر پر حملہ، چار ہلاک25 February, 2008 | پاکستان خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک25 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: دھماکے میں پانچ ہلاک 02 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||