BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 February, 2008, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک

فائل فوٹو
سوات میں پاکستانی فوج نے گزشتہ سال اکتوبر میں مقامی طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کے مطابق بارات پر ریموٹ کنٹرول بم کا ایک حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج کے تعلقاتِ عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر نے تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

دوسری طرف سوات کے ڈی آئی جی سید اختر علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی شام تقریباً سوا پانچ بجےتحصیل مٹہ کے علاقہ میں ایک بارات جا رہی تھی کہ رونیال کے مقام پر ایک دھماکہ ہوا جس میں ان کے بقول کم سے کم سات افراد ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے۔

ان کے بقول بظاہر یہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ تھا ’تاہم یہ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ اس کا نشانہ بارات تھی کہ نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوع پر پولیس کو ایک بم بھی ملا ہے جسے ناکارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تحصیل مٹہ کے ایس ایچ او امان اللہ کا کہنا ہے کہ دھماکے سے دوگاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مٹہ میں مقامی طالبان نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا

ایک عینی شاہد صلوبر نے بی بی سی کو بتایا کہ بارات کی دو گاڑیاں پلوشہ گاؤں سے واپس آرہی تھیں کہ ان میں سے ایک گاڑی سڑک میں نصب بم پر چڑھ گئی جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔انکے بقول دھماکہ میں دلہن اور ڈرائیور محفوظ رہے جبکہ سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔ صلوبر نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بعد تحصیل مٹہ کا سول ہسپتال مکمل طور پر بند ہوگیا ہے جس سے مریضوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ان کے بقول آج کے واقعہ کی طرح پیش آنے والی کسی بھی ہنگامی حالت میں زخمیوں کو دور دراز کے ہسپتالوں تک پہنچانے کے دوران انسانی جانوں کی ضیاع کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد صوبہ سرحد میں یہ پہلا بم دھماکہ ہے۔ سوات میں پاکستانی فوج نے گزشتہ سال اکتوبر میں مسلح مقامی طالبان کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد مسلح طالبان کو علاقہ سے بےدخل کر دیا تھا جس کے بعد سے وہاں پر سکیورٹی فورسز، انتخابی اجتماعات، سیاسی رہنماؤں کو خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ’ٹارگٹ کلنگ‘، کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات: مٹہ کے نائب ناظم قتل
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد