BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:سیاسی رہنما کےگھر پر حملہ

سوات(فائل فوٹو)
کہا جاتا ہے کہ سوات میں عسکریت پسندوں نے تین تحصیلوں کا کنٹرول چھوڑ دیا ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد میں شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کے مطابق پیپلزپارٹی شیرپاؤ کے ضلعی صدر کے گھر کو نامعلوم افراد نے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا ہے جس سے گھر کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری طرف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات میں پچیس مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کوزہ بانڈئی میں واقع پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے ضلعی صدر شیر شاہ خان کے گھر کو نامعلوم افراد نے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا جس سے گھر کے دو کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ تاہم حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

کانجو پولیس چوکی کے انچارج بخت بیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں گھر کے دو کونوں پر مسلح افراد کی جانب سے دو ریموٹ کنٹرول بم نصب کیے گئے تھے جن کے پھٹنے سے باغ کے قریب واقع دو کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق کمرے خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سوات میں عسکریت پسندوں کی طرف سے تین تحصیلوں کا کنٹرول چھوڑنے کے بعد حکومتی حامی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کے گھروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ ان حملوں میں عسکریت پسند ملوث ہیں۔

تقریباً ایک ماہ قبل سوات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر اسفندیار امیر زیب ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں آٹھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

مولانا فضل اللہ کا گھر
مولانا فضل اللہ کا گھر جسے کہا جاتا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ارکان نے گرا دیا ہے

دوسری طرف سوات میں گزشتہ شام پچیس مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کوزہ بانڈئی میں امن کمیٹی کے صدر شیر خان کی رہائشگاہ پر مولانا فضل اللہ کے پچیس مبینہ حامیوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو بعد میں پانچ لاکھ روپے نقد اور شخصی ضمانتوں پر رہا کردیا گیا۔

سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں مولانا فضل اللہ کے کئی کمانڈر اور حامی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر عام لوگ ہیں۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
اسی بارے میں
سوات میں کرفیو کا نفاذ
23 November, 2007 | پاکستان
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد