سوات:سیاسی رہنما کےگھر پر حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کے مطابق پیپلزپارٹی شیرپاؤ کے ضلعی صدر کے گھر کو نامعلوم افراد نے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا ہے جس سے گھر کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات میں پچیس مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات کوزہ بانڈئی میں واقع پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے ضلعی صدر شیر شاہ خان کے گھر کو نامعلوم افراد نے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا جس سے گھر کے دو کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ تاہم حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ کانجو پولیس چوکی کے انچارج بخت بیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں گھر کے دو کونوں پر مسلح افراد کی جانب سے دو ریموٹ کنٹرول بم نصب کیے گئے تھے جن کے پھٹنے سے باغ کے قریب واقع دو کمرے مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق کمرے خالی ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ سوات میں عسکریت پسندوں کی طرف سے تین تحصیلوں کا کنٹرول چھوڑنے کے بعد حکومتی حامی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کے گھروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ ان حملوں میں عسکریت پسند ملوث ہیں۔ تقریباً ایک ماہ قبل سوات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر اسفندیار امیر زیب ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں آٹھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری طرف سوات میں گزشتہ شام پچیس مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کوزہ بانڈئی میں امن کمیٹی کے صدر شیر خان کی رہائشگاہ پر مولانا فضل اللہ کے پچیس مبینہ حامیوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی حکام کے حوالے کیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو بعد میں پانچ لاکھ روپے نقد اور شخصی ضمانتوں پر رہا کردیا گیا۔ سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں مولانا فضل اللہ کے کئی کمانڈر اور حامی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر عام لوگ ہیں۔ |
اسی بارے میں کرفیو ختم، موبائل فون بدستور بند23 November, 2007 | پاکستان سوات میں کرفیو کا نفاذ23 November, 2007 | پاکستان سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ16 November, 2007 | پاکستان سوات میں حکومتی کارروائی میں دیر کیوں؟15 November, 2007 | پاکستان سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک15 November, 2007 | پاکستان سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک14 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||