لاہور دھماکے، 30 ہلاک، 160 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں مال روڈ کے نزدیک واقع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ہونے والے دو دھماکوں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ لاہور کے دونوں حملے خودکش حملے تھے اور ان میں مجموعی طور پر ستائیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سکول کے بچے بھی بتائے جا رہے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق ماڈل ٹاؤن حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ٹیمپل روڈ پر واقع ایف آئی اے کے صوبائی ہیدکوارٹرز پر حملے میں چوبیس افراد مارے گئے ہیں جن میں ایف آئی اے کے بارہ اہلکار شامل ہیں۔
دھماکے بعد قریب کے سکولوں کی چھٹی کرادی گئی اور بچوں کو لینے کے لیے والدین وہاں پہنچنے لگے۔ دھماکوں کے بعد کئی افراد نے مال روڈ پر احتجاجی جلوس نکالا۔ لاہور کی مصروف شاہراہ مال روڈ کے قریب ایف آئی اے کے دفتر میں دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ہوا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس دفتر میں دو دھماکے ہوئے۔ حکام کا خیال ہے کہ چونکہ ایف آئی کے دفتر میں ہونے والے دھماکے میں بہت زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ خود کش حملہ نہ ہو۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر میاں منظور نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ منگل کی صبح ایف آئی کے دفتر میں چار مارچ کو نیول وار کالج میں ہونے والے دھماکے کی تفتیش ہو رہی تھی۔
عینی شاہدین نے جو بتایا ایف آئی اے کے ایک اہلکار کیشئیر علی احمد کا کہنا ہے کہ ’میں بلڈنگ کے تہہ خانے میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا جب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی ہم زمین پرگرگئے اور بلڈنگ کا ملبہ گرنا شروع ہو گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ زندہ ہوں یامرگیا ہوں تاہم جونہی میرے حواس بحال ہوئے تو میں نےلڑکھڑاتے قدموں سے باہر کا راستہ ڈھونڈنا شروع کردیا جس کے بعد ایک روشندان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوا اوروہاں سے باہر کود گیا،۔ علی احمد نے مزید بتایا کہ عام طور پر اس بلڈنگ میں ڈھائی سو لوگ کام کرتے ہیں اور اس وقت چھٹے فلور پر قیدی بھی موجود تھے۔ ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کاری ساز جاوید ڈینیل کے مطابق وہ ایف آئی اے کے سامنے ان کا دفتر ہے اور میں موجود تھے پہلا دھماکہ نو بج کر تیرہ منٹ پر ہوا جس کے بعد ان کو کوئی ہوش نہیں رہا جس میں وہ خود بھی معمولی زخمی ہو گئے اور اس وقت کسی کو کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے تقریباً دس منٹ کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا جبکہ ان کے دفتر کو بھی تقصان پہنچا ۔ ان کے مطابق دھماکہ کے بعد قریبی سکول اور ملازمین کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دس منٹ کے بعد ریسکیو ٹیمیں نے پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کر دی۔ دریں اثنا لاہور میں دھماکوں کے بعد ملحقہ علاقوں کے رہائشی مال روڈ پر نکل آئے اورملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر احتجاج کیا۔اور مطالبہ کیا ہے کہ پرویز مشرف اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اس لیے وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ ماڈل ٹاؤن دھماکہ ماڈل ٹاؤن کا دھماکہ بلاول ہاؤس کے علاوہ لاہور کے ناظم میاں عامر محمود کی رہائش گاہ کے قریب ہوا۔ اس دھماکہ میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ کئی کلو میٹر دور تک ان کی آوازیں سنی گئی اور درجنوں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ چار مارچ کو لاہور ہی میں اپر مال پر واقع پاک بحریہ کے نیول وار کالج میں خود کش دھماکے میں ایک حملہ آور سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں مجوزہ پولنگ سٹیشنوں پر دھماکے16 February, 2008 | پاکستان سوات:دھماکہ میں 1 ہلاک،کئی زخمی16 February, 2008 | پاکستان سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک22 February, 2008 | پاکستان این جی او دفتر پر حملہ، چار ہلاک25 February, 2008 | پاکستان خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک25 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: دھماکے میں پانچ ہلاک 02 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||