’وہی آئین ہے جو دو نومبر کو تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کی بحالی کے سلسلے میں معائدہ بھوربن وکلاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اگر اس معائدے کو سبوتاژ کرنےکی کوشش کی گئی تو عوام اور وکلاء برادری صدر کا مواخذہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے بھوربن کے معاہدے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی تو وکلاء لانگ مارچ کریں گے اور اسلام آباد میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں آرمی ہاوس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ راولپینڈی میں منگل کے روز آزاد عدلیہ اور میڈیا کے بغیر جمہوریت نامکمل کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر کو کیے گئے اقدامات کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے اور ان اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے پارلینمٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو پرویز مشرف حامی جماعت کے پاس نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے حمائیتی یہ کہہ رہے ہیں کہ تین نومبر والے اقدامات جائز تھےاور اب ان کو ختم کرنے کے لیے پارلیمان کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کو یہ حق ہے کہ آئین کو معطل کرے اور وہ آئین میں ترمیم کرے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ایوان صدر میں معائدہ بھور بن کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور شریف الدین پیرزادہ اور اٹارنی جنرل ملک قیوم صدر کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ آئین پرویز مشرف کے اقدامات سے بھی نہیں بدلا اور یہ وہی آئین ہے جو دو نومبر کو تھا۔ اسی آئین کے تحت نومنتخب ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی حلف لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مثال کے طور پر آرٹیکل چھ کی جگہ غالب کا ایک شعر اس میں لگا دیا جائے تو کیا وہ آئین کا حصہ بن جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے جو کتاب چھاپی ہے وہ آئین نہیں ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو چاہیے تھا بیس جولائی دو ہزار سات کو جب تیرہ ججوں نے متفقہ طور پر افتخار محمد چودھری کو بحال کیا تھا اسی دن استعفٰی دے دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے وکلاء کی تحریک میں میڈیا کے کردار کو سراہا اور کہا کہ چیک اینڈ بیلنس کے لیے میڈیا کا آزاد ہونا بہت ضروری ہے۔ علی احمد کرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں ساٹھ سال کے بعد انقلاب آیا ہے اور جس کے بعد کسی فوجی جنرل کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن بند کیا جائے اور وہاں جو فوج بھیجی گئی ہے اس کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہمنا مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کی جماعت کا واضح موقف ہے کہ عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کوفوری طور پر بحال کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||