BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 February, 2008, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئی پارلیمنٹ سے خیر کی توقع نہیں‘

خواجہ شریف
ہم خود ان ججز کو کورٹ روم میں بٹھائیں گے: نواز شریف
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ ان حالات میں انہیں نئی پارلیمنٹ سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے اور عدلیہ کی بحالی وکلاء کی جدوجہد کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔

جمعرات کو لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت تک ’سٹیٹس کو‘ ختم نہیں ہوگا جب تک آمر اور ان کے حواریوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جاتا اور انہیں چوکوں میں پھانسی دی جاتی۔

جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ انہیں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وکیل اور عوام جج کو تسلیم نہ کریں تو پھر ایسے جج ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر پرویز مشرف نے ایک چیف جسٹس کی بحالی کو قبول نہیں کیا تھا، پچاس ججوں کی بحالی انہیں کس طرح قابل قبول ہوگی‘۔جسٹس خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے جرنیل کے سامنے انکار کر کے لفظ ’نہ‘ کو ایک مقدس لفظ بنا دیا ہے۔

جسٹس خواجہ شریف نے خطاب کے بعد وکلاء کے احتجاجی جلوس میں بھی شرکت کی۔ یہ جلوس ایوان عدل سے شروع ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے وکلاء بھی اس میں شامل ہوگئے۔ وکلاء برادری کے اس احتجاج میں انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔

اسی بارے میں
ویلنٹائن ڈے پر خلیل رمدے ڈے
14 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد