BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 February, 2008, 08:36 GMT 13:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فردِ واحد کے اقدام کو تحفظ نہ دیں‘

جسٹس افتخار چودھری
’ججوں کی بحالی کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں‘
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے نو منتخب اراکینِ اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ وہ تین نومبر کے بعد فرد واحد کی جانب سے اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم نہ کریں۔

کراچی میں جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ بار سے ٹیلیفونک خطاب میں جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ پارلمینٹرینز کے اس اقدام سے ملک میں فرد واحد کے اختیارات مضبوط ہوجائیں گے جس کے بعد کوئی پولیس افسر بھی ججوں پر دباؤ ڈال کر من پسند فیصلے لے سکےگا اور کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ’ملک میں گزشتہ پارلیمنٹ نے فرد واحد کو اختیار دیکر ایک منفی بنیاد ڈالی تھی جو کسی بھی طریقے سے بہتر عمل نہیں تھا۔ اگر نو منتخب پارلیمنٹ اسی تسلسل کو برقرار رکھی گئی تو ہر شخص چاہے وہ پولیس والا ہو یا اور کوئی عدالتی فیصلے پر اثرا انداز ہو سکتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر فرد واحد کو آئین میں ترمیم کے اختیارات دیں گے تو ملک میں کوئی بھی ادارہ آزاد اور خود مختار نہیں رہ سکے گا اور پارلیمنٹ کی حیثیت بھی ختم ہوجائےگی۔

 ملک میں گزشتہ پارلیمنٹ نے فرد واحد کو اختیار دیکر ایک منفی بنیاد ڈالی تھی جو کسی بھی طریقے سے بہتر عمل نہیں تھا۔ اگر نو منتخب پارلیمنٹ اسی تسلسل کو برقرار رکھی گئی تو ہر شخص چاہے وہ پولیس والا ہو یا اور کوئی عدالتی فیصلے پر اثرا انداز ہو سکتا ہے۔
جسٹس افتخار محمد چودھری

جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو ایک انتظامی حکم کے ذریعے عدالتوں میں بٹھایا گیا ہے، جبری ریٹائرڈ جج بھی ایسے ہی انتظامی حکم کے ذریعے بحال ہوسکتے ہیں اور ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے تین نومبر کو اٹھائے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور سول سائٹی اور وکلا تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ جدوجہد رنگ لائے گی۔

اس سے قبل وکلاء نے سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جبکہ کراچی بار ایسو سی ایشن کے وکلاء کے احتجاجی جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔

جنرل باڈی اجلاس کے بعد جب وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور اس دوران وکلاء اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جس سے متعدد وکلاء زخمی ہو گئے۔ پولیس نے جلوس میں شامل دس سے زائد وکلاء کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

انتخاباتتیر اور شیر کی جیت
مشرف کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے
عوام کا جواب
نہ مشرف نہ مُلا اور نہ مسلم لیگ (ق)
بی بی سی اردو سروے
مشرف جائے، جسٹس آئے: پاکستانیوں کی رائے
معزول چیف جسٹس’اپنے اقتدار کیلیے‘
مشرف نےعدلیہ، ادارے تباہ کیے: معزول جسٹس
جنرل فیض علی چشتی’مشرف خطرہ ہیں‘
سابق فوجیوں کا مشرف سے استعفیٰ کا مطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد