’فردِ واحد کے اقدام کو تحفظ نہ دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے نو منتخب اراکینِ اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ وہ تین نومبر کے بعد فرد واحد کی جانب سے اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم نہ کریں۔ کراچی میں جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ بار سے ٹیلیفونک خطاب میں جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ پارلمینٹرینز کے اس اقدام سے ملک میں فرد واحد کے اختیارات مضبوط ہوجائیں گے جس کے بعد کوئی پولیس افسر بھی ججوں پر دباؤ ڈال کر من پسند فیصلے لے سکےگا اور کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ’ملک میں گزشتہ پارلیمنٹ نے فرد واحد کو اختیار دیکر ایک منفی بنیاد ڈالی تھی جو کسی بھی طریقے سے بہتر عمل نہیں تھا۔ اگر نو منتخب پارلیمنٹ اسی تسلسل کو برقرار رکھی گئی تو ہر شخص چاہے وہ پولیس والا ہو یا اور کوئی عدالتی فیصلے پر اثرا انداز ہو سکتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فرد واحد کو آئین میں ترمیم کے اختیارات دیں گے تو ملک میں کوئی بھی ادارہ آزاد اور خود مختار نہیں رہ سکے گا اور پارلیمنٹ کی حیثیت بھی ختم ہوجائےگی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو ایک انتظامی حکم کے ذریعے عدالتوں میں بٹھایا گیا ہے، جبری ریٹائرڈ جج بھی ایسے ہی انتظامی حکم کے ذریعے بحال ہوسکتے ہیں اور ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے تین نومبر کو اٹھائے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور سول سائٹی اور وکلا تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ جدوجہد رنگ لائے گی۔ اس سے قبل وکلاء نے سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جبکہ کراچی بار ایسو سی ایشن کے وکلاء کے احتجاجی جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ جنرل باڈی اجلاس کے بعد جب وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور اس دوران وکلاء اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جس سے متعدد وکلاء زخمی ہو گئے۔ پولیس نے جلوس میں شامل دس سے زائد وکلاء کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’عدلیہ بحالی، نئی پارلیمان پر انحصار‘19 February, 2008 | پاکستان اعتزاز کا مشروط رہائی سے انکار20 February, 2008 | پاکستان ’غیرآئینی اقدام وقت کی ضرورت‘14 February, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی، وکلاء کا احتجاج جاری11 February, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||