’غیرآئینی اقدام وقت کی ضرورت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف آئینی درخواستوں کو مسترد کرنے کے اپنے فیصلے کا جمعرات کو تفصیلی متن جاری کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ انیس سو ستتر، انیس سو ننانوے اور تین نومبر کے موقع پر ملکی حالات ایک جیسے تھے جس کی وجہ سے ہنگامی حالت جیسے غیرآئینی اقدام کی ضرورت پڑی۔ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف اقبال ٹکا اور وطن پارٹی کے ظفراللہ خان کی طرف سے دائر کی جانے والی دو آئینی درخواستوں کو تیئس نومبر کو خارج کر دیا تھا۔ تاہم اس کا ایک سو گیارہ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ اب جاری کیا گیا ہے۔ سات رکنی بینچ چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس محمد قائم جان خان، جسٹس محمد موسیٰ لغاری، جسٹس چوہدری اعجاز یوسف، جسٹس محمد اختر شبیر اور جسٹس ضیا پرویز شامل ہیں۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم، ججوں کے نئے حلف اور جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کیے گئے تمام اقدامات کو جائز قرار دے دیا تھا۔
تفصیلی فیصلے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے حکم نامے، عبوری آئینی حکم نامے، ججوں کے حلف سے متعلق حکم نامے اور آئینی ترامیم کو شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے صدر کو امن عامہ کی بگڑتی صورتحال سے متعلق ایک خط اور دہشت گردی کے واقعات سے متعلق ماہانہ رپورٹس بھی شامل کی گئی ہیں۔ صدر کی تین نومبر کی تقریر بھی اس تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اور خودکش حملوں کے باعث حکومت ملک میں امن وامان قائم کرنے اور شہریوں کو مکمل تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی تھی اور اگر تین نومبر کو ماورائے آئین اقدامات نہ کیے جاتے تو ملک و قوم کو سنگین نتائج دیکھنا پڑتے۔ عدالت کے مطابق دونوں درخواست گزاروں نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ تین نومبر کو بالکل ویسے ہی حالات تھے جیسے پانچ جولائی انیس سو ستتر اور بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے میں تھے اور اُس وقت بھی ماورائے آئین اقدام کرنا پڑے تھے۔
بینچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ تمام جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا وہ اب جج نہیں رہے اور نہ ہی وہ کسی طور پر اپنے عہدے پر بحال ہوسکتے ہیں اور نہ ان کے کیس پر ازسرنو کارروائی ہوسکے گی۔ فیصلے کے مطابق برخاست ججوں نے اپنی حد سے تجاوز کیا اور از خود نوٹس کے نام پر بہت سے انتظامی معاملات میں مداخلت کی۔ معزول چیف جسٹس چودھری افتخار حسین کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے ان پر عدلیہ، مقننہ اور انتظامی امور میں بےجا مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے ججوں نے متعدد افسران کی معطلی اور تبدیلی کے علاوہ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام رکوا دیا جس میں نیو مری سٹی اور لاہور کنال روڈ کے منصوبوں کے علاوہ متعدد منصوبے شامل تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ججوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی غیر موثر کردیا۔ صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کئے گئے تمام اقدامات کی توثیق کرتے ہوئے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے صدر اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ ملک میں صاف اور شفاف عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار رہے گا کہ وہ صدر یا آرمی چیف کے کسی بھی اقدام کوجو آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوں اس پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے ملک میں ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر دلائل سنے۔ اس تفصیلی فیصلے کا عام انتخابات سے محض چار روز قبل سامنے آنے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ صدر پرویز مشرف کی حامی سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ قاف توقع کرسکتی ہے کہ اسے کچھ فائدہ ہو۔ | اسی بارے میں ’جمہوریت کے لبادے میں ڈکٹیٹر‘01 February, 2008 | پاکستان صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن24 November, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان عبوری آئین: شہری آزادیاں سلب03 November, 2007 | پاکستان میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||