BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 March, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور دھماکے: عینی شاہدین نے کیا دیکھا
ایف آئی اے بلڈنگ میں دھماکوں کے بعد

لاہور میں مال روڈ کے قریب واقع ایف آئی اے کے دفتر اور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں منگل کی صبح دھماکے ہوئے۔ وہاں موجود بعض افراد نے جو کچھ دیکھا اس کی تفصیل کچھ یوں ہیں۔

علی احمد ایف آئی اے میں کیشئیر ہیں۔

’’میں بلڈنگ کے تہہ خانے میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا جب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی ہم زمین پرگرگئے اور بلڈنگ کا ملبہ گرنا شروع ہو گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ زندہ ہوں یامرگیا ہوں تاہم جونہی میرے حواس بحال ہوئے تو میں نےلڑکھڑاتے قدموں سے باہر کا راستہ ڈھونڈنا شروع کردیا جس کے بعد ایک روشندان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوا اوروہاں سے باہر کود گیا۔

عام طور پر اس بلڈنگ میں ڈھائی سو لوگ کام کرتے ہیں اور اس وقت چھٹے فلور پر قیدی بھی موجود تھے۔‘‘

محمد رضا ایف آئی اے کی عمارت سے کچھ فاصلے پر ہی کام کرتے ہیں۔

’’دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے آس پاس کی عمارتیں گونج اٹھیں اور ہم نے دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھتے دیکھے۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔

میرا دفتر قریبی عمارت کی چھٹی منزل پر ہے۔ دھماکے کے بعد ہر چیز دھوئیں کے بڑے سے بادل کے پیچھے چھپ گئی۔ ہر طرف گرد چھا گئی۔ ہمیں بڑا ڈرا لگا اور ہم نے سوچا کہ ہمیں باہر بھی نہیں نکلنا چاہئے۔

ایف آئی اے آفس
دھماکے کی شدت سے آس پاس کی عمارتیں بھی گونج اٹھیں

جب بادل چھٹا تو ہم نے دیکھا کہ لوگ باہر کی طرف بھاگ رہے تھے۔ ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی۔ افراتفری تھی۔ پانچ، دس منٹ میں پولیس اور ایمبیولنس والے پہنچ گئے۔‘‘

عبداللہ افتخار سہگل ماڈل ٹاؤن میں رہتے ہیں، جہاں دوسرا دھماکہ ہوا۔

’’دھماکہ میرے گھر سے تقریباً چار گھر دور ہوا۔ اس کا اثر اتنا شدید تھا کہ میرے گھر کی تقریباً تمام کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

کیواڑ قبضوں سے اکھڑ کر چوکھٹ میں جھولنے لگے۔ چھت کا دروازہ تو دو ٹکڑے ہوگیا۔

دھواں
دھماکوں کے بعد افراتفری مچ گئی اور دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے

دھماکے کے وقت میں سو رہا تھا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ میرے ہوش اڑ گئے۔ پہلے میں نے سوچا شاید زلزلہ آگیا ہے۔ میں نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں اور نوکروں کی خبر لی۔

پھر میں نے باہر دیکھا۔ آسماں دھوئیں سے بھرا ہوا تھا میں سمجھ گیا کہ بم پھٹا ہے۔ میں نے بارود کی بو محسوس کی۔ پڑوسی بھی باہر نکل آئے۔ سب اپنے اپنے ٹیلی فون کرنے میں مصروف تھے۔

میں اپنی چھت پر گیا اور متاثرہ گھر کو دیکھا جو بالکل تباہ ہوگیا تھا۔ پہلے تو گہرے دھوئیں کی وجہ سے کچھ نظر ہی نہیں آیا۔ پھر پولیس اور امدادی کارکن آگئے۔

یہ علاقہ اتنا پرامن تھا۔ اب ڈر لگنے لگا ہے۔‘‘

جاوید ڈینیل ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتے ہیں۔ ان کا دفتر ایف آئی اے کی عمارت کے سامنے ہے۔ دھماکے کے وقت وہ اپنے دفتر میں موجود تھے۔

’’پہلا دھماکہ نو بج کر تیرہ منٹ پر ہوا جس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہیں رہا۔ میں خود بھی معمولی زخمی ہوا ہوں۔ اس وقت کسی کو کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے تقریباً دس منٹ کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا جس کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میرے دفتر کو بھی تقصان پہنچا ہے۔

دس منٹ کے بعد ریسکیو ٹیمیں نے پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کر دی۔‘‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد