BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 March, 2008, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
این آئی ایچ: بم افواہ، خوف و ہراس

این آئی ایچ
این آئی ایچ کا زیادہ تر عملہ اپنے گھروں کو چلا گیا
اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) میں بم اور آتش گیر مادے کی افواہ سے پورے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔

پاکستان کے قومی ادارہ صحت کے قائمقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شاہد اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ این آئی ایچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جنرل ریٹائرڈ مسعود انور کی بیوی کو صبح ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس میں نامعوم کالر کا کہنا تھا کہ اس کے گروپ نے این آئی ایچ میں آتش گیر مادہ رکھا ہوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ مسعود انور سرکاری مصروفیات کے سلسلے میں ملک سے باہر ہیں۔

قائمقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے کو طلب کیا گیا جنہوں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے کر آتش گیر مادے کی تلاش شروع کر دی۔

واضح رہے کہ اس فون کال کے کچھ دیر بعد ہی لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت میں خوفناک دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے کی وجہ سے این آئی ایچ میں موجود مریضوں اور سٹاف میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور این آئی ایچ کا زیادہ تر عملہ اپنے گھروں کو چلا گیا۔

شاہد اختر کا کہنا ہے کہ این آئی ایچ کی عمارت ایک سو چالیس ایکٹر پر محیط ہے اور اگر این آئی ایچ کے ملازمین کی کالونی کو بھی شامل کیا جائے تو یہ علاقہ چھ سو ایکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

آتش گیر مادے کو این آئی ایچ میں موجودگی کی اطلاع کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اس ہسپتال اور بلخصوص الرجی سینٹر میں علاج معالجے کے لیے آنے والے لوگ اور این آئی ایچ کے عملے نے فوری طور پر عمارت خالی کردی۔

اسلام آباد پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ اور فوج کے تربیت یافتہ کتے وہاں پہنچ گئے۔ پولیس کی ایک بھاری نفری بھی علاقے میں تعینات کر دی گئی جنہوں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ایس ایس پی سید کلیم امام نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے پانچ گھنٹے کے سرچ آپریشن کے بعد اس عمارت کو کلیر کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نامعلوم ٹیلیفون کال کا سراغ لگانے کے سلسلے میں تفتیش جاری ہے اور متعلقہ حکام سے اس ضمن میں تفصیلات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
ملک بھر میں ریڈ الرٹ کا حکم
18 January, 2008 | پاکستان
لاہور دھماکے کے بعد۔۔۔
10 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد