ملک بھر میں ریڈ الرٹ کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں امام بارگاہ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں محرم الحرام کے دوران پینتیس اضلاع کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انتخابات کے سلسلے میں مختلف علاقوں میں بھیجی جانے والی فوج اور رینجرز کے ارکان کو بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں محرم الحرام کے جلوسوں کے سلسلے میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں نویں محرم کے ماتمی جلوس کے موقع پر رینجرز کو بھی مختلف علاقوں میں تعینات کیا جائےگا۔ اس کے علاوہ اس ماتمی جلوس میں شریک ہونے والے افراد کو واک تھرو گیٹ سے گزارا جائے گا اور اس جلوس کے اردگرد پولیس کا حصار ہوگا۔ سیکورٹی پلان کے تحت جن جن علاقوں سے یہ ماتمی جلوس گزرے گا اس کے اردگرد عمارتوں پر پولیس کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس نے حساس اور مرکزی امام بارگاہوں کے باہر بارہ سے پندرہ پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جو ہروقت وہاں موجود رہیں گے۔ ان جگہوں پر مجالس کے دوران پولیس کی نفری میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔
راولپنڈی میں پولیس کے ساتھ ساتھ فوج کے اہلکار بھی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور شہر کی مرکزی امام بارگاہ کرنل مقبول کے گرد، جہاں پر عاشورہ کا مرکزی جلوس نکلے گا، سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور قریبی عمارتوں کی چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ خودکش حلوں کے خطرات بدستور موجود ہیں اور جڑواں شہروں میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے آٹھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں محرم الحرام کے دوران ملک میں خودکش حملے ہوتے رہے ہیں اور پشاور میں مسلسل دوسرے سال محرم الحرام کے دوران خودکش حملہ کیا گیا ہے جس میں سٹی پولیس افسر ملک سعد سمیت سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے عاشورہ کے موقع پر کوئٹہ میں جلوس پر حملہ کیا گیا تھا جس میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ نئے سال کے پہلے سولہ دنوں کے دوران پاکستان میں ان تک چار خودکش حملے اور بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے کہا ہے کہ ان خودکش حملوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ان افراد کے ساتھ بات چیت کی جائے جن کے بارے میں یہ اطلاعات مل رہی ہوں کہ خودکش حملہ آوروں کو ان کی سرپرستی حاصل ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈنڈے کے زور پر کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کا واحد حل سیاسی ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ہونے والے دھماکوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کا کوئی خاص اجینڈا نہیں ہے اور ان کا مقصد ملک میں صرف غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے سابق آئی جی ملک نواز کہتے ہیں کہ ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جی نے کہا کہ ایسے افراد جن کو کوئی گلے شکوے ہیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے۔ |
اسی بارے میں پشاورامام بارگاہ: خود کش دھماکہ، 10ہلاک17 January, 2008 | پاکستان محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ 14 January, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘14 January, 2008 | پاکستان محرم، پینتیس اضلاع حساس11 January, 2008 | پاکستان ’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘10 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||