پنڈی حملہ: نامعلوم شخص پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی پولیس نے ایک نامعلوم شخص کے خلاف پیر کی سہ پہر مال روڈ پر ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس حملے میں فوج کے شعبۂ طب کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقیات کے لیے ایس ایس پی آپریشن یٰسین فاروق کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ ٹیم میں ایف آئی اے کے خصوصی تفتیشی گروپ اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ فوج کی تحقیقاتی ٹیم بھی اس مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والا حملہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم قبائلی شدت پسندوں نے جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ پولیس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم کے ارکان نے راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے ملزمان سے، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں، حملے کے بارے میں پوچھ گچھ کی ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کی عمر پندرہ سے سولہ سال کے درمیان تھی جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ملوث ملزم کی عمر بیس سے پچیس سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔ پولیس نے جائے حادثہ کے قریب نادرہ سوِفٹ سینٹر کے باہر لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمرے کا ریکارڈ قبضے میں لے کر اس کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں جن کی روشنی میں مبینہ خودکش حملہ آور کا تصویری خاکہ تیار کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل راولپنڈی کے آر اے بازار چوک میں آرمی میڈیکل کور کے طلباء کی گاڑی کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک کرنل سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی پولیس نےاس واقعہ کے بعد سرچ آپریشن کے دوران تین سے زائد ایسے افراد کو حراست میں لے لیا تھا جو پولیس کو اپنی شناخت فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ راولپنڈی میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران سات خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مقامی پولیس نے فوج پر ہونے والے ان خودکش حملوں میں سے تین کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو پر ہونے والے خودکش حملے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان حسنین گل اور محمد رفاقت پر ڈال دی ہے۔ وزارت داخلہ نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیں اور سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھیں۔ | اسی بارے میں خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک25 February, 2008 | پاکستان راولپنڈی: خودکش حملہ، سات ہلاک04 February, 2008 | پاکستان نوشہرہ: خودکش حملہ، چھ ہلاک15 December, 2007 | پاکستان دو خود کش حملے، تیس ہلاک24 November, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان فضائیہ بس پر حملہ، تحقیقات شروع01 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||