BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 February, 2008, 03:18 GMT 08:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راولپنڈی: خودکش حملہ، سات ہلاک

حملے کے بعد ناکہ بندی
دھماکے میں آرمی میڈیکل کور کی بس کے علاوہ کئی اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں
راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب آرمی میڈیکل کور کی ایک بس پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حملے میں بس بالکل تباہ ہو گئی۔

راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر سید سعود عزیز نے کہا ہے کہ این ایل سی کے دفتر کے سامنے ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک کرنل، دو صوبیدار میجر، ایک راہگیر، دو ایم ای ایس کے ملازمین اور ایک خودکش حملہ آور شامل ہیں۔

آزاد ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق اس خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور زخمیوں میں سے دس کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے جنہیں فوری طور پر سی ایم ایچ میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں پر ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خودکش حملے میں انتہاپسندوں کا ایک نیا گروپ ملوث ہے۔

تاہم انہوں نے اس گروپ کا نام بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیس افراد ابھی تک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں جبکہ باقی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر ان کے گھروں میں بھیج دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سٹی پولیس آفیسر نے کہا کہ سرگودھا سےگرفتار ہونے والے شدت پسند گروہ کے ارکان نہ تو اس واقعہ میں اور نہ ہی اس سے قبل راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد سے پوچھ گچھ کے دوران چکوال سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق حملہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا جب موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے فوج کی میڈیکل کور کی ایک کوسٹر میں ٹکر مار دی۔ حملہ نیشنل لاجسٹک سیل کے دفتر کے قریب ہوا۔

راولپنڈی دھماکہ
اسی مقام پر پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں کی بس کو نشانہ بنایا جا چکا ہے
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آرمی میڈیکل کور کی گاڑی ایک مرتبہ فضا میں بلند ہونے کے بعد سڑک سے دور جاگری اور اس وقت گاڑی میں بیس سے زائد افراد سوار تھے۔

جس جگہ یہ دہماکہ ہوا وہاں سے چند گز فاصلے میں ایک ٹی سٹال کے مالک حاجی شوکت نے جو کہ اس واقعہ کے چشم دید گواہ بھی ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ وہ تقریباً سات بجکر بیس منٹ کے قریب اپنے ہوٹل کی صفائی کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بس کے دھاتی ٹکڑے دور دور تک جاگرے۔

حاجی شوکت نے جو پانچ ماہ پہلے بھی اسی جگہ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہوئے تھے، بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ہر جگہ پر خون اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے اور جب وہ دھماکہ کی جگہ پر جانے لگا تو پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے راستے بلاک کر دیئے اور کسی کو بھی وہاں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اُس وقت یہاں پر بہت رش ہوتا ہے اور ساڑھے سات بجے کے قریب ملٹری پولیس کے اہلکار اس سڑک پر تعینات کر دیئے جاتے ہیں جو ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔

علاقے کے ایک اور رہائشی عبدالقیوم نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گھروں کے درو دیوار ہل گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ زلزلہ آگیا ہے اور لوگ چیـخیں مارتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔

اس دھماکے کے بعد این ایل سی اور جی ایچ کیو میں کام کرنے والے افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی خریت معلوم کرنے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور وہ ہسپتالوں اور جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہاں پر انہیں تلاش کرتے رہے۔

اس واقعہ کے بعد پولیس اور ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور وہاں سے ضروری شواہد اکھٹے کیے۔ جس جگہ پر یہ دھماکہ ہوا پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے اس کو چاروں طرف سے بند کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک
04 September, 2007 | پاکستان
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
ملک بھر میں ریڈ الرٹ کا حکم
18 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد