راولپنڈی: خودکش حملہ، سات ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب آرمی میڈیکل کور کی ایک بس پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور پچیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حملے میں بس بالکل تباہ ہو گئی۔ راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر سید سعود عزیز نے کہا ہے کہ این ایل سی کے دفتر کے سامنے ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک کرنل، دو صوبیدار میجر، ایک راہگیر، دو ایم ای ایس کے ملازمین اور ایک خودکش حملہ آور شامل ہیں۔ آزاد ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق اس خودکش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے اور زخمیوں میں سے دس کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے جنہیں فوری طور پر سی ایم ایچ میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں پر ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ راولپنڈی کے سٹی پولیس آفیسر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خودکش حملے میں انتہاپسندوں کا ایک نیا گروپ ملوث ہے۔ تاہم انہوں نے اس گروپ کا نام بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ بائیس افراد ابھی تک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں جبکہ باقی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر ان کے گھروں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سٹی پولیس آفیسر نے کہا کہ سرگودھا سےگرفتار ہونے والے شدت پسند گروہ کے ارکان نہ تو اس واقعہ میں اور نہ ہی اس سے قبل راولپنڈی میں ہونے والے خودکش حملوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد سے پوچھ گچھ کے دوران چکوال سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا جب موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے فوج کی میڈیکل کور کی ایک کوسٹر میں ٹکر مار دی۔ حملہ نیشنل لاجسٹک سیل کے دفتر کے قریب ہوا۔
جس جگہ یہ دہماکہ ہوا وہاں سے چند گز فاصلے میں ایک ٹی سٹال کے مالک حاجی شوکت نے جو کہ اس واقعہ کے چشم دید گواہ بھی ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ وہ تقریباً سات بجکر بیس منٹ کے قریب اپنے ہوٹل کی صفائی کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ بس کے دھاتی ٹکڑے دور دور تک جاگرے۔ حاجی شوکت نے جو پانچ ماہ پہلے بھی اسی جگہ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہوئے تھے، بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ہر جگہ پر خون اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے اور جب وہ دھماکہ کی جگہ پر جانے لگا تو پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے راستے بلاک کر دیئے اور کسی کو بھی وہاں پر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اُس وقت یہاں پر بہت رش ہوتا ہے اور ساڑھے سات بجے کے قریب ملٹری پولیس کے اہلکار اس سڑک پر تعینات کر دیئے جاتے ہیں جو ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ علاقے کے ایک اور رہائشی عبدالقیوم نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ گھروں کے درو دیوار ہل گئے اور ایسا محسوس ہوا کہ زلزلہ آگیا ہے اور لوگ چیـخیں مارتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔ اس دھماکے کے بعد این ایل سی اور جی ایچ کیو میں کام کرنے والے افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی خریت معلوم کرنے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور وہ ہسپتالوں اور جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہاں پر انہیں تلاش کرتے رہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس اور ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور وہاں سے ضروری شواہد اکھٹے کیے۔ جس جگہ پر یہ دھماکہ ہوا پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے اس کو چاروں طرف سے بند کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک04 September, 2007 | پاکستان اکثر ہلاک شدگان محکمۂ دفاع کے04 September, 2007 | پاکستان خود کش حملےمیں پانچ ہلاک01 February, 2008 | پاکستان امام بارگاہ:خود کش حملہ، 10ہلاک17 January, 2008 | پاکستان انسدادِ دہشتگردی کے جدید آلات29 January, 2008 | پاکستان کامرہ راکٹ حملہ، میس کو نقصان17 January, 2008 | پاکستان امن وامان کی خرابی میں غیرملکی ہاتھ28 January, 2008 | پاکستان ملک بھر میں ریڈ الرٹ کا حکم18 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||