امن وامان کی خرابی میں غیرملکی ہاتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں غیر ملکی انٹیلیجنس ایجسیوں کا ہاتھ ہے اور اس ضمن میں حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کے خطرات بدستور موجود ہیں جن میں سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پیر کو سینیٹر طلحہ محمود کی صدارت میں ہونے والے داخلہ امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں امن و امان کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے انتہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ سیاستدانوں کی حفاظت کے سلسلے میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور ضمن میں ایک نیا سکیورٹی شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خودکش حملہ آوروں کے نیٹ ورک کو توڑنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے اور اس ضمن میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری عبدالمجید نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ساتھ مل کر اس مقدمے کے ہر پہلو پر تفتیش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش بہت جلد مکمل ہوجائے گی۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار ہونے والے دو افراد اعتزاز شاہ اور فیروز زمان سے اس مقدمے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذکورہ ملزمان اس واقعہ میں ملوث تھے۔ واضح رہے کہ نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اٹھارہ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات سے پہلے اس مقدمے کی تحقیقات مکمل ہوجائیں گی اور اس کی رپورٹ عام کردی جائے گی۔
سیکرٹری داخلہ نے اجلاس کو ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے دوران امن وامان قائم رکھنے کے سلسلے میں کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کے بارے میں بتایا۔ اجلاس میں شریک پاکستان مسلم لیگ قائداعظم سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کامل علی آغا، سینیٹر طاہرہ لطیف اجلاس سے اس وقت واک آوٹ کر گئے جب مسلم نون سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کامران ستی نے اجلاس کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خود کش حملوں کا خطرہ صرف حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو ہے جب کہ مسلم لیگ قائداعظم گروپ پنجاب کے صدر چوہدری پرویز الہی کو کبھی بھی خود کش حملے کی دھمکی نہیں ملی جس کے بعد ان افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ تاہم اجلاس میں شریک دیگر افراد انہیں منا کر واپس اجلاس میں لے آئے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں اور وزارت داخلہ کے اعلٰی حکام نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں قومی اسمبلی میں امن و امان پر بحث31 July, 2007 | پاکستان سندھ: امن و امان کیلیے انیس ارب15 June, 2007 | پاکستان مہنگائی، امن و امان اور پانی: درانی20 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان کیلیے گرینڈ جرگہ14 May, 2006 | پاکستان ہر قیمت پرامن و امان کی ہدایات 15 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||