BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 July, 2007, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی میں امن و امان پر بحث

ڈاکٹر فاروق ستار
ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر پر حزب اختلاف نے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔
قومی اسمبلی میں آج دوسرے روز بھی لال مسجد اور ملک میں امن عامہ کی صورتحال پر بحث جاری رہی۔

حکومتی اراکین حالات میں خرابی کی ذمہ داری علماء پر ڈال رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف حکومت کو مجرم قرار دے رہی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار یعقوب کی صدارت میں شروع ہوا تو کل شام کی بحث کو جاری رکھا گیا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے جعمیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری مدارس یا علماء پر نہیں بلکہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ان کا موقف تھا کہ علماء نے صرف محبت و اخوت کا ہی درس دیا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغفور حیدری نے صدر جنرل پرویز مشرف اور بے نظیر کے درمیان مبینہ رابطوں پر بھی مختصر سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے باہر کیے جانے والے ماضی کے فیصلوں سے بھی ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے فیصلے کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کب ایسا ہوا کہ افسران کو گاڑیوں پر سے سرکاری نمبر پلیٹیں ہٹانے اور فوجی افسروں کو عوامی مقامات پر وردی کے بغیر جانے کی ہدایات دی گئی ہوں۔ ان کا سوال تھا کہ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے اور کب تک ایسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’حکمران سر جوڑ کر بیٹھیں ورنہ مستعفی ہوجائیں۔‘

مسلم لیگ (ق) کے چوہدری اعجاز احمد نے تاہم سرکاری پالیسی سے ہٹ کر اپنی تقریر میں حکومت کو امریکہ سے دور ہونے کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں ہوگا جو امریکہ کا حامی ہو۔

دوپہر تک بحث میں ایم ایم اے کے بختیار معانی، پرویز ملک، عذرا فضل اور منظور وسان نے حصہ لیا۔

پیپلز پارٹی کے نوید قمر کے استفسار پر کہ بحث کے لیے آج ایک گھنٹے کا مقررہ وقت کافی نہیں ہوگا ڈپٹی سپیکر نے انہیں تسلی دی کہ اراکین جتنا وقت چاہیں انہیں دیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے باہر پہلے روز کی نسبت دوسرے روز بھی سکیورٹی قدرے کم دکھائی دی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر پر حزب اختلاف نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں نے سوویت یونین کا خاتمہ کروا کے دنیا پر امریکہ کو حاوی کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم ایم اے لال مسجد کے مسئلے کو انتخابات میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔

سپیکر نے بعد میں اجلاس کل شام تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

لال مسجد آپریشن کے بعد کئی حملے ہوئے ہیںطالبان کی دھمکی
’لال مسجد پر مقامی طالبان رہنما کا بیان‘
 عینی شاہدین کے مطابق ایک ایک تابوت میں دو دو لاشیں دفن کی گئیںہلاکتوں کی تعداد
لال مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد پر شکوک
 جنرل مشرفدس جولائی کے بعد
لال مسجد آپریشن، جنرل مشرف کے لیے لاٹری؟
حشمت حبیب ایڈوکیٹمعاملہ دب سکتا ہے
لال مسجد معاملے کے از خود نوٹس پر خدشات
اسی بارے میں
جامعہ حفصہ سے لاش برآمد
22 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد