BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: امن و امان کیلیے انیس ارب

صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی پندرہ فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے
اگلے سال کا صوبائی بجٹ سندھ اسمبلی میں جمعہ کی شام پیش کیا جارہا ہے، جس کا کُل حجم دو کھرب سولہ ارب پینسٹھ کروڑ بتایا گیا ہے۔ صوبے میں پچیس ہزار نئی ملازمتوں کے لیے بھی اس بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے۔

آئندہ مالیاتی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 166.651 ارب روپے اور سالانہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ پچاس ارب روپے لگایا ہے۔

امن امان کے لیے 19.145 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 18.913 ارب روپے تھی۔ سماجی خدمات کے لیے 23.0550 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 18.538 ارب روپے تھی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف مدوں میں سبسڈی کے لیے 1.725 ارب روپے اور گرانٹ کے لیے 0.549 ارب روپے مقرر کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کی پیروی کرتے ہوئے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں بھی پندرہ فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت پر ایک کھرب ، سڑسٹھ ارب اور پچپن کروڑ کے قرضے واجب الادا ہیں، یہ قرضے پچاس سال کی مدت کے لیے حاصل کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت کو ان قرضوں کے لیے سینتیس ارب اٹھہتر کروڑ روپے سود ادا کرنا ہوگا۔ سندھ حکومت نے یہ تمام قرضے ترقیاتی کاموں اور نظام میں بہتری کے لیے حاصل کیے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن سے اکہتر ارب تہتر کروڑ تیس لاکھ کا قرضہ لیا گیا ہے اور یہ رقم زیر زمین پانی کے استعمال، فیملی ہیلتھ، بنیادی تعلیم، اور زراعت اور آبپاشی پر خرچ کی جائے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک سے چھانوے ارب چونسٹھ کروڑ کا قرضہ لیا گیا ہے۔ یہ رقم مال مویشیوں ،سیم نالوں کی تعمیر و مرمت، اساتذہ کی تربیت، فنی تعلیم اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مختص کی گئی ہے۔

امریکی حکومت کے فلاحی محکمے یو ایس ایڈ نے ملیریا کے خاتمے کے لیے چودہ کروڑ تیرہ لاکھ روپے فراہم کیے ہیں۔ اسی طرح برطانوی حکومت سے ایک ارب سولہ کروڑ چونتیس لاکھ روپے کا قرضہ لیا گیا ہے جو کراچی واٹر سپلائی سکیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بلوچستان بجٹ
انسٹھ ارب ستر کروڑ روپے کا خسارہ
ہوش ربا مہنگائی
دس برس:اشیائے صرف کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ
ثناء اللہ بھٹہ کا خط
اس بجٹ سے بس ’مہنگائی آوے ہی آوے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد