BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 03:32 GMT 08:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو خود کش حملے، تیس ہلاک

حمزہ کیمپ
حمزہ کیمپ فیض آباد کے قریب مری روڈ پر واقع ہے جسے دھماکے کے بعد عام ٹریفک بند کر دیا گیا

راولپنڈی میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کیمپ اور جی ایچ کیو کے قریب ہونے والے دو خود کش حملوں میں تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان جنرل وحید ارشد نے فیض آباد کے قریب ہونے والے حملے میں کم سے کم سولہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں دھماکوں میں تیس افراد مارے گئے ہیں۔

حمزہ کیمپ (سابقہ اوجڑی کیمپ) میں ہونے والے خود کش حملے کا نشانہ حساس ادارے کی ایک بس بنی جس کے عقب میں آنے والی ایک اور گاڑی اس سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گئی جس سے بس کو آگ لگ گئی۔ راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں واقع حمزہ کیمپ میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے دفاتر اور اس کے اہلکاروں کی رہائشگاہیں ہیں۔

چشم دیدگواہوں کے مطابق حملے کا نشانے بننے والی بس جب کیمپ کے اندر داخل ہوئی تو ایک چھوٹی گاڑی بھی اس کے پیچھے اندر چلی گئی، پھر زوردار دھماکہ ہوا اور بس کو آگ لگ گئی۔خود کش حملے کا نشانہ بننے والی بس بری طرح جل چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہو تو اس وقت گاڑی میں چالیس سے زائد افراد سوار تھے اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنائی دی۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور اس وقت سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ دھماکے کے بعد فوج کے اہلکاروں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اسلام آباد کی طرف جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

اس واقعہ کے بعد پولیس اور ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹیگیشن گروپ کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں سے شواہد اکھٹے کیے۔

حمزہ کیمپ میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے دفاتر اور اس کے اہلکاروں کی رہائشگاہیں ہیں۔

دھماکے کے بعد جب مختلف ہسپتالوں کی ایمبولنس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو موقع پر تعینات فوجی اہلکاروں نے انہیں کیمپ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور صرف فوج کی ایمبولنس گاڑیوں کو لاشیں اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بیالیس تابوت اوجڑی کیمپ میں بھیجے گئے ہیں اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے کسی شخص کی لاش کو جی ایچ کیو نہیں بھیجا گیا۔

دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہوا جس میں ایک شدت پسند نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس سے شدت پسند سمت دو افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں نے اوجڑی کیمپ کے قریبی علاقے کی چھان بین کے دوران ایک مارٹر گولہ بھی ملا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔

ان دھماکوں کی کوریج کے لیے جب میڈیا کے لوگ وہاں پہنچے تو حساس اداروں کے اہلکاروں نے ان سے کیمرے چھین لیے۔

بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ کیو کے پاس ہونے والے خودکش حملے میں شدت پسند کا چہرہ قابل شناخت ہے۔ ان خودکش حملوں کے بعد ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران راولپنڈی میں پاکستانی فوج پر پانچ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ذیادہ تعداد فوجی اہلکاروں کی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال ان حملوں کا سراغ نہیں لگا سکے۔

اسی بارے میں
خود کش حملے کا مقدمہ درج
31 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد