دو خود کش حملے، تیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کیمپ اور جی ایچ کیو کے قریب ہونے والے دو خود کش حملوں میں تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم فوج کے ترجمان جنرل وحید ارشد نے فیض آباد کے قریب ہونے والے حملے میں کم سے کم سولہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ راولپنڈی پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں دھماکوں میں تیس افراد مارے گئے ہیں۔ حمزہ کیمپ (سابقہ اوجڑی کیمپ) میں ہونے والے خود کش حملے کا نشانہ حساس ادارے کی ایک بس بنی جس کے عقب میں آنے والی ایک اور گاڑی اس سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے پھٹ گئی جس سے بس کو آگ لگ گئی۔ راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں واقع حمزہ کیمپ میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے دفاتر اور اس کے اہلکاروں کی رہائشگاہیں ہیں۔ چشم دیدگواہوں کے مطابق حملے کا نشانے بننے والی بس جب کیمپ کے اندر داخل ہوئی تو ایک چھوٹی گاڑی بھی اس کے پیچھے اندر چلی گئی، پھر زوردار دھماکہ ہوا اور بس کو آگ لگ گئی۔خود کش حملے کا نشانہ بننے والی بس بری طرح جل چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہو تو اس وقت گاڑی میں چالیس سے زائد افراد سوار تھے اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنائی دی۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے اور اس وقت سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ دھماکے کے بعد فوج کے اہلکاروں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اسلام آباد کی طرف جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد پولیس اور ایف آئی اے کے سپیشل انویسٹیگیشن گروپ کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں سے شواہد اکھٹے کیے۔
دھماکے کے بعد جب مختلف ہسپتالوں کی ایمبولنس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو موقع پر تعینات فوجی اہلکاروں نے انہیں کیمپ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور صرف فوج کی ایمبولنس گاڑیوں کو لاشیں اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق بیالیس تابوت اوجڑی کیمپ میں بھیجے گئے ہیں اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے کسی شخص کی لاش کو جی ایچ کیو نہیں بھیجا گیا۔ دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہوا جس میں ایک شدت پسند نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس سے شدت پسند سمت دو افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں نے اوجڑی کیمپ کے قریبی علاقے کی چھان بین کے دوران ایک مارٹر گولہ بھی ملا جسے بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔ ان دھماکوں کی کوریج کے لیے جب میڈیا کے لوگ وہاں پہنچے تو حساس اداروں کے اہلکاروں نے ان سے کیمرے چھین لیے۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ کیو کے پاس ہونے والے خودکش حملے میں شدت پسند کا چہرہ قابل شناخت ہے۔ ان خودکش حملوں کے بعد ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران راولپنڈی میں پاکستانی فوج پر پانچ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ذیادہ تعداد فوجی اہلکاروں کی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال ان حملوں کا سراغ نہیں لگا سکے۔ | اسی بارے میں ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان پشاور: وزیر کے گھر حملہ، چار ہلاک09 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ریلی میں دو دھماکے، 125 افراد ہلاک18 October, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: چوبیس ہلاک، شیرپاؤ زخمی28 April, 2007 | پاکستان راولپنڈی :خود کش حملہ، 7 ہلاک30 October, 2007 | پاکستان خود کش حملے کا مقدمہ درج31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||