BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 March, 2008, 04:44 GMT 09:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جو پہلے ہی تحویل میں گرفتار کیسے ہوا؟‘

قمر سلیم
پنجاب پولیس نے بدھ کی صبح جن تین مبینہ خود کش بمباروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ان میں سے ایک کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ چھ مہینے سے مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں تھا اور ان کے بقول پولیس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ اسے بدھ کی صبح حراست میں لیا گیا۔

کیپیٹل سٹی پولیس چیف لاہور ملک اقبال نے بدھ کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں تین مبینہ خود کش بمباروں کو گرفتاری اور ان سے پچاس کلو بارود چار خود کش جیکٹیں،ڈیٹونیٹر اور فیوز وغیرہ برآمد کرنے کا انکشاف کیا۔

لاہور پولیس کے سربراہ نے کہا تھا کہ تین مبینہ خود کش حملہ آور بدھ کی صبح بتی والا چوک سے لاہور پہنچے ہی تھے کہ پہلے سے گھات لگائے بیٹھی پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔

پریس کانفرنس ختم
 پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے قمر سلیم کے بارے میں یہ سوال کیا کہ اس کی گرفتاری کی خبریں تو کئی ماہ سے اخبارات میں شائع ہورہی ہیں پولیس آج صبح اس کی گرفتاری کا دعویٰ کیسے کرسکتی ہے؟ تو سٹی پولیس چیف نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے جس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کا اختتام کردیا۔
پولیس نےان سے برآمد ہونے والا یہ دھماکہ خیز مواد اور بم بنانے کا دیگر سامان بھی میڈیا کو دکھایا لیکن جن تین افراد کے نام بطور خود کش حملہ آور لیے ان میں ایک نام گوجرانوالہ کے علاقے لوہیانوالہ کے قمر سلیم کا بھی تھا۔

قمر سلیم کی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہاتھوں پکڑے جانے کی خبر گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان کے مقامی اخبارات میں شائع ہوچکی ہے۔

سترہ سالہ قمر سلیم حافظ قرآن اور جناح روڈ گوجرنوالہ کے ایک مدرسے میں استاد تھا۔ اس کے والد محمد سلیم نے گوجرانوالہ کے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یکم ستمبر کو جب پولیس اور خفیہ ایجنیسوں کے اہلکاروں نے ان کے گھر چھاپہ مارا تو وہ دراصل کسی اظہر نامی شخص کی تلاش میں تھے اور اس کے نہ ملنے پر قمر سلیم کی آنکھوں پر کالی پٹی اور ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر لے گئے تھے۔

محمد سلیم نے کہا کہ انہوں نے اس کی بازیابی کے لیے صدر پرویزمشرف،گورنر پنجاب،کور کمانڈروں سے لے کر پولیس کے اعلیٰ افسران تک سب کو تحریری درخواستیں بھی دی تھیں۔

اس کی رہائی کے لیے اخبارات میں اپیلیں بھی شائع کروائی تھیں لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ان کے والد کے بقول پولیس والے یہی کہتے رہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں ہے۔

ان کے والد نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اب چھ ماہ کے بعد ان کے بیٹے کی دوبارہ بتی چوک سے گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران جب ایک صحافی نے قمر سلیم کے بارے میں یہ سوال کیا کہ اس کی گرفتاری کی خبریں تو کئی ماہ سے اخبارات میں شائع ہورہی ہیں پولیس آج صبح اس کی گرفتاری کا دعویٰ کیسے کرسکتی ہے؟ تو سٹی پولیس چیف نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے جس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کا اختتام کردیا۔

سٹی پولیس چیف نے کہا کہ ان خود کش بمباروں نے لاہور کی اہم تنصیبات اور شخصیات کو نشانہ بنانا تھا اور یہ کہ ان سے صرف دو روز پہلے ہونے والے نیوی وار کالج کے بم دھماکوں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

بدھ کی گرفتاری سے پہلے قمر سلیم کا شمار ان لاپتہ افرادمیں ہوتا ہے جن کے بارے میں ان کے ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کی غیرقانونی حراست میں ہیں۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کررہے تھے جب پہلی بار انہیں معطل اور دوسری بارمعزول کیاگیا۔

طالبان’نئے خود کش‘
خود کش حملہ آوروں کی نئی تنظیم فدایانِ اسلام؟
دیکھیئےتصویروں میں
درگئی آرمی مرکز پر خود کش حملہ
خودکش حملے کیوں؟
پاکستان میں خود کش حملوں کا بڑھتا رجحان
اسی بارے میں
سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک
22 February, 2008 | پاکستان
خود کش حملہ: سرجن جنرل ہلاک
25 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد